انقرہ، 19 جنوری (یو این آئی) ترک محکمہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دُوران نے شام میں جنگ بندی اور مکمل انضمام معاہدے کو صدر رجب طیب ایردوان کا طویل عرصے سے ہدف ہونے والے ‘دہشت گردی سے پاک خطہ کے قیام کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔دوران نے ترکیہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ “معاہدے کی شرائط کے نفاذ پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی” یہ پیش رفت اتفاقیہ نہیں بلکہ صدر کی جانب سے برسوں کے دوران بارہا زیر لب لائی گئی اصولی باتوں اور انتباہات کی عکاس ہے۔دُوران نے کہا کہ شام میں دیرپا استحکام ان تمام نسلی اور فرقہ وارانہ گروپوں کے حقوق کو مساوی شہریت کی بنیاد پر یقینی بنانے پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید کہا، “ایک ایسا شام جو اپنی علاقائی سالمیت برقرار رکھے اور دہشت گرد تنظیموں سے پاک ہو، خطے میں امن کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے” لہذا اس حوالے سے حکومتِ شام کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور کوششیں اہم ہیں۔دوران نے بتایا کہ ترکیہ میدانِ عمل میں اور مذاکراتی میز دونوں جگہوں پر ایک مضبوط فریق ہے، دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشنز ترکیہ کی سرحدوں کے ساتھ ایک محفوظ زون قائم کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جب کہ سفارتی کوششیں شام کے مستقبل کو تشکیل دینے والے سلسلے کی معاونت کر رہی ہیں۔سربراہ مواصلات نے مزید کہا کہ “شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری ترکیہ کے لیے ناگزیر ہیں” انقرہ اپنے ہمسائے کی سلامتی کو اپنی سلامتی سے الگ تصور نہیں کرتا اور امن کو ایک اصول اور استحکام کو ہدف سمجھتا ہے۔
ترکیہ کا شام میں جنگ بندی اور مکمل انضمام معاہدے کا خیر مقدم
مقالات ذات صلة



