بھیگی آنکھوں اور بلند ہاتھوں کے ساتھ عازمین الٰہی محوِ دعا رہے
مسجد نمرہ سے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی کا خطبہ حج؛ توحید، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور مناسک کی درست ادائیگی پر زور
مکہ مکرمہ، 26 مئی:۔ (ایجنسی) مناسکِ حج کے سب سے مقدس اور مرکزی مرحلے میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج منیٰ میں رات بھر قیام کے بعد منگل کو میدانِ عرفات میں حج کے رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ کی ادائیگی کے لیے جمع ہو گئے۔ میدانِ عرفات کی حدود میں طلوعِ آفتاب کے بعد سے ہی تقریباً 16 لاکھ سے زائد عبادت گزاروں کا بحرِ بیکراں موجزن تھا۔ تپتی دھوپ میں عازمین کی زبانوں پر ’لبیک اللّٰہم لبیک‘ کے ساتھ ساتھ تسبیح و تمجید کا ورد جاری تھا، ہاتھ مغفرت کی دعاؤں کے لیے بلند تھے اور گناہوں کی معافی کے گریہ و زاری سے بے شمار آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ خطبے کے بعد حجاج نے سنتِ نبویؐ کے مطابق ظہر اور عصر کی نمازیں مسجدِ نمرہ میں ایک ساتھ قصر کر کے ادا کیں۔
آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے
میدانِ عرفات کی تاریخی مسجدِ نمرہ سے حج کا خطبہ دیتے ہوئے مسجدِ نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ اور توحید کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، اس لیے اللہ سے ڈرو، تقویٰ اختیار کرو اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید پر قائم رہنا ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتیں۔ انہوں نے بشارت دی کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے اور وہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
بدعت، غیبت اور جھگڑوں سے دور رہنے کی تلقین
شیخ علی الحذیفی نے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ وہ حج کے لیے منادی کریں، اور اللہ نے اس آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔ آج دنیا بھر سے مختلف رنگ و نسل اور زبانوں کے لوگ یہاں پہنچے ہیں جو اللہ کی قدرت کا ایک عظیم مظہر ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے ان بندوں پر فخر کر رہا ہے۔ انہوں نے حجاج کو نصیحت کی کہ اس مقدس سرزمین پر جھگڑے اور گناہ سے پاک رہیں، ہمیشہ سچ بولیں، غلط بیانی، بدعت اور غیبت سے دور رہیں۔ حجاج کرام ہر لمحہ ذکر و عبادت میں مصروف رہیں کیونکہ وہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔
اگلے مراحل اور مزدلفہ روانگی
خطیبِ حج نے عازمین کو آگے کے مناسک سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حجاج عرفات میں قیام کے بعد مزدلفہ جائیں گے اور پھر منیٰ تشریف لے جائیں گے جہاں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ عازمین منیٰ میں 11 اور 12 ذی الحجہ کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طوافِ زیارت کریں گے۔ انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ! تمام عازمین کو سلامتی کے ساتھ واپس لوٹا اور ان کا حج قبول فرما۔ اب غروبِ آفتاب کے بعد حجاجِ کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی اور کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے بعد اگلے مرحلے میں منیٰ واپسی اور رمی جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنے) اور قربانی کا عمل شروع ہوگا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596337