آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایران کا امریکی جنگی جہاز پر حملے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید
واشنگٹن، 5 مئی (یو این آئی) ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم امریکہ نے اس کی تردید کر دی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جہاز ایرانی بندرگاہ جاسک کے قریب داخل ہوا اور وارننگ نظر انداز کرنے پر اس پر 2 میزائل داغے گئے جس کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔دوسری جانب امریکی فوج نے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی امریکی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ اس اہم گزرگاہ کی سیکیورٹی ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں ممکنہ طویل جنگ کی تیاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔ایرانی حکام میزائل اور ڈرون صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بندش بھی جاری ہے جو 90 ملین سے زائد افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ایرانی حکومت نے ‘جانِ فدا، نامی مہم بھی شروع کر رکھی ہے جس میں عوام کو قربانی کے لیے تیار رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس مہم میں 31 ملین افراد شامل ہو چکے ہیں تاہم غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ان اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی فورسز کے ذرائع نے یو اے ای پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات پر حملے ایران سے نہیں ہوئے غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز ذرائع نے یو اے ای پر حملوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پر حملے ایران سے نہیں ہوئے اور نہ ہی حملے کا کوئی منصوبہ تھا ایک ایرانی فوجی اہلکار نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس تیل کی تنصیبات پر حملے کا کوئی پہلے سے منصوبہ بند پروگرام نہیں تھا اور جو کچھ ہوا وہ آبنائے ہرمز کے ممنوعہ راستوں سے غیر قانونی طور پر بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے امریکی فوج کی مہم جوئی کا نتیجہ تھا اور اس کے لیے امریکی فوج کو جوابدہ ہونا چاہیے۔مزید کہا کہ امریکی حکام کو سفارتی عمل میں طاقت کے استعمال کے بدصورت رویے کو ختم کرنا چاہیے اور تیل کے اس حساس خطے میں فوجی مہم جوئی کو روکنا چاہیے جو دنیا کے تمام ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرتا ہے۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے گزشتہ روز ایران پر بلیسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کا الزام لگایا تھا۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق 4 مئی کو حملے ایران کی جانب سے کیے گئے۔ فضائی دفاعی کارروائی کے دوران 12 بیلسٹک، 3 کروز میزائل، 4 ڈرون تباہ کیے گئے، اور ایرانی حملے ناکام بنائے گئے۔
