لاکھوں عازمین حج کی منیٰ روانگی، مناسکِ حج کا پہلا مرحلہ شروع
میدانِ عرفات میں حج کی تمام تیاریاں مکمل؛ مسجدِ نمرہ سے دیا جائے گا خطبہ حج، سکیورٹی کے فول پروف انتظامات
آتش بار گرمی بھی ان مہمانانِ حرم کے پائے استقلال میں لغزش نہ لا سکی، منیٰ میں روحانیت کا وجد آفریں منظر قابلِ دید
مکہ مکرمہ، 24 مئی:۔ (ایجنسی) دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ روانہ ہو کر خیموں کے شہر پہنچ چکے ہیں، جس کے ساتھ ہی پانچ روزہ مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے عازمین کو مرحلہ وار اور منظم طریقے سے منیٰ کی عارضی خیمہ بستی میں پہنچانے کا عمل مقررہ وقت پر شروع کیا گیا تھا، جو کامیابی سے جاری ہے۔ عازمینِ حج کے قافلوں کو مقررہ شیڈول کے مطابق احرام باندھ کر منیٰ منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ حج کے پہلے مرحلے کے تحت قیام اور عبادت میں مصروف ہیں۔
رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ اور مناسک کا شیڈول
پانچ روزہ مناسکِ حج کے طے شدہ شیڈول کے مطابق، عازمینِ حج منیٰ میں پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہوئے عبادت الٰہی میں وقت گزاریں گے۔ اس کے بعد عازمین حج کے رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفات ‘ کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہوں گے۔ میدانِ عرفات میں حج کا خصوصی خطبہ سننے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں جمع بین الصلاتین (ملا کر) ادا کی جائیں گی۔ مغرب کے وقت حجاج کرام مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھیں گے اور شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔ حجاج کرام رات مزدلفہ میں ہی گزاریں گے۔
قربانی، حلق اور جمرات کی ادائیگی
مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد حجاج کرام منیٰ واپس روانہ ہوں گے جہاں وہ رمی جمرات (بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے) کا فریضہ انجام دیں گے۔ اس کے بعد حجاج کرام اللہ کی راہ میں جانور قربان کریں گے اور اپنا سر منڈوا کر (یا بال کٹوا کر) احرام کھول دیں گے اور عام لباس پہنیں گے۔ حجاج مزید دو روز تک منیٰ میں ہی قیام کریں گے، جہاں وہ چھوٹے، درمیانے اور بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے۔ اس کے ساتھ ہی حجاج کرام بیت اللہ کے طوافِ وداع کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔
آخری دن کی اہم ترین شرعی پابندی
مناسکِ حج کے آخری دن حجاج کرام کو ایک اہم ترین شرعی پابندی کا خیال رکھنا ہوتا ہے، جس میں اکثر حجاج سے بڑی غلطی ہو جاتی ہے۔ آخری دن تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام کو ہر حال میں مغرب ہونے سے قبل منیٰ کی حدود سے نکلنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی حاجی مغرب سے پہلے منیٰ کی حدود سے نہیں نکل پاتا، تو اسے اگلے دن دوبارہ آخری بار تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنا ہوں گی، تب ہی اس کا حج مکمل مانا جائے گا۔ عازمین کی سہولت کے لیے مختلف زبانوں کے مترجمین بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
منیٰ میں سکیورٹی اور بلدیاتی انتظامات
حج کے اس عظیم الشان اجتماع کو پرامن اور کامیاب بنانے کے لیے سعودی عرب انتظامیہ کی جانب سے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ فورسز کے مختلف شعبوں کے اہلکاروں سمیت وزارتِ صحت، شہری دفاع، بلدیہ، ٹیلی کمیونیکیشن اور محکمہ موسمیات کی ٹیمیں منیٰ میں مستعد ہیں۔ مکہ مکرمہ اور منیٰ میں غیر قانونی طریقہ سے داخلے کو روکنے کے لیے سخت ناکہ بندی کی گئی ہے۔ وادی منیٰ کے داخلی راستوں پر سکیورٹی اہلکار حج پرمٹ دیکھنے کے بعد ہی اندر جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عازمین کی آمد و رفت کے لیے مشاعر ٹرین اور خصوصی بس سروس کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596160