احتجاج میں تیزی لائیں، مدد راستے میں ہے: ٹرمپ کا ایرانی عوام کو پیغام
واشنگٹن، 14 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکام سے تمام ملاقاتیں منسوخ کرتے ہوئے عوام سے احتجاج میں شدت لانے کا مطالبہ کیا امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل، پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ‘میک ایران گریٹ اگین، میں نے ایرانی حکام سے تمام ملاقاتیں منسوخ کردی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران میں مظاہرین احتجاج جاری رکھیں مدد راستے میں ہے، مظاہرین احتجاج میں شدت لائیں اور اداروں کا اپنے کنٹرول میں لے لیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی مذکورہ پوسٹ سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے قطر میں نیا ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس سیل قائم کیا، العدید ایئربیس پر مشرقِ وسطیٰ کیلیے مشترکہ دفاعی آپریشن سیل کا افتتاح کیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ نیا سیل مشترکہ کارروائیوں کو مضبوط بنائے گا، فضائی اور میزائل دفاع کیلیے علاقائی ممالک کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا، اقدام دفاعی صلاحیتوں اور سکیورٹی تعاون کو نمایاں طور پر بہتر کرے گا۔ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں اور ایسے میں امریکہ نے تہران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مظاہرین کو کچلنے کی کوشش کی تو فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔اس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں مظاہروں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم مضبوط، طاقتور اور باخبر ہے۔آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کی عظیم ریلیوں نے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملادیا، سازشوں پر اندرونی ملک کروائے کے ایجنٹوں سے عمل کرایا جانا تھا، امریکا اپنے آلہ کاروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دے۔ان کا کہنا تھا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات کی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات میں ایران میں ہونے والے مظاہروں سمیت مختلف امور پر بات کی گئی۔رپورٹس کے مطابق ایران میں مظاہروں کے بعد ایرانی حکومت مخالف شخصیت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان یہ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ پہلوی سے ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ‘ایک اچھے انسان لگتے ہیں، لیکن یہ ‘اس وقت مناسب نہیں ہوگا۔خیال رہے کہ ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت لانے کے لیے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں۔رضا پہلوی کو پیدائش کے بعد سے ہی اپنے والد (شاہ ایران) کے جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ سنہ 1979 میں وہ امریکہ میں لڑاکا طیارہ اُڑانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب انقلاب کے دوران اُن کے والد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کو ختم کر دیا گیا۔خیال رہے کہ ایران کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایرانی عوام کے مرکزی قاتل قرار دیا ہے۔



