اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے سے قاصرٹرمپ بوکھلاگیا
واشنگٹن، 16 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی کوششوں کا ساتھ نہ دیا تو نیٹو کا مستقبل “انتہائی برا” ہوسکتا ہے فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے تقریباً سات ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم تجارتی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ امریکہ اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اس راستے پر منحصر نہیں ہے۔انہوں نے کہا میں مطالبہ کر رہا ہوں کہ یہ ممالک آگے آئیں اور اپنے مفادات کا تحفظ کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے۔ ٹرمپ نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، لہذا یہ ان ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں ‘مائن سویپرز’ اور فوجی دستے تعینات کریں تاکہ ساحل پر موجود شرپسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس تنازع کی وجہ سے چینی صدر کے ساتھ رواں ماہ کے آخر میں ہونے والی سمٹ تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ایران کی عسکری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور اب ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ڈرون سازی کی صنعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگر وہ ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ نہ کرتے تو ایران پورے مشرقِ وسطیٰ پر ایٹمی حملہ کر دیتا کیونکہ وہ پورے خطے پر قبضے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران فی الحال جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر تیار نہیں ہے لیکن وہ اس مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے غلط معلومات اور مظاہروں کی جعلی تصاویر پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس ہتھیاروں کی لامحدود مقدار ہے، ہم پہلے ایران کا معاملہ نمٹائیں گے اور اس کے بعد کیوبا کا رخ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں آپریشن ختم ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گر جائیں گی۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازعات اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر طرف سے دباؤ میں ڈال رہی ہے۔ ایک طرف مغربی ایشیا میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں پر ایرانی حملے جاری ہیں۔ دریں اثناء ٹرمپ کو گھریلو محاذ پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی آبادی کا ایک بڑا طبقہ اس تنازعے کا مخالف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں بھی ٹرمپ اپنے نیٹو اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ نیٹو کا مستقبل تاریک ہے۔قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کے علاقے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے جنگی جہازوں کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم نیٹو کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سا ملک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں ہماری مدد کرے گا۔امریکہ مغربی ایشیا کے بحران میں پھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی موت کے بعد بھی ایران اب بھی باز آنے کو تیار نہیں ہے اور مغربی ایشیا اور اسرائیل میں امریکی اڈوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکا اور اسرائیل کی کوششیں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے تیل کی عالمی سپلائی پر دباؤ پڑا ہے۔ امریکی تیل کمپنیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ سے اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد حل نہ نکالاگیا تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً سات ممالک سے آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی جہاز تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، آسٹریلیا اور جاپان جیسے قریبی امریکی اتحادیوں نے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد ممالک نے اپنے جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے تہران سے رابطہ کیا ہے، جس کا فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے یہ راستہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ تمام ممالک کے لیے کھلا رکھا ہے۔ عباس عراقچی نے امریکا سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے کیا تھا، اس لیے اب بات چیت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔



