تل ابیب، 30 ستمبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کو عالمی اور عرب حلقوں میں سراہا گیا، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی اس پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم اسرائیلی وزیر خزانہ اور دائیں بازو کے رہنما بزلئیل سموٹریچ نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک طویل بیان میں اس تجویز کو ” ناکام سفارتی تجربہ اور سات اکتوبر کے حملے سے کوئی سبق نہ سیکھنے کے مترادف” قرار دیا۔
سموٹریچ نے مزید کہا کہ “میرے خیال میں یہ معاملہ آخرکار آنسوؤں پر ہی ختم ہوگا اور ہمارے بچے ایک بار پھر غزہ میں لڑنے پر مجبور ہوں گے”۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر تفصیلی غور بعد میں ہوگا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب نیتن یاھو نے واشنگٹن کے دورے کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ انہوں نے کسی فلسطینی ریاست کے قیام کی منظوری نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ “تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ کی بیشتر جگہوں پر موجود رہے گی۔”
اسرائیلی انتہا پسند وزیر خزانہ نے غزہ کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ مسترد کردیا
مقالات ذات صلة









Users Today : 114
Users Yesterday : 191
Users Last 7 days : 1226
Users Last 30 days : 1383
Users This Month : 1369
Users This Year : 1383
Total Users : 4562926