Thursday, January 29, 2026
ہومInternationalاسرائیل رفح گزرگاہ سے امداد کا داخلہ کم کرنے کیلئے کوشاں

اسرائیل رفح گزرگاہ سے امداد کا داخلہ کم کرنے کیلئے کوشاں

تل ابیب،29جنوری(ہ س)۔اسرائیل کی جانب سے چند روز قبل غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح سرحدی گزر گاہ کو افراد کی آمد و رفت کے لیے محدود طور پر کھولنے کے اعلان کے بعد، با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب اب واشنگٹن سے یہ مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں کمی کی جائے تاکہ حماس تنظیم کی آمدنی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی جانب سے امریکیوں سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی یومیہ تعداد 600 سے کم کر کے 200 سے زائد نہ رکھی جائے، بلکہ یہ تعداد روزانہ 120 ٹرکوں سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے، جبکہ ٹرکوں کے سامان کی مکمل جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔ اس تناظر میں علاقوں میں حکومتی سرگرمیوں کے کوآرڈینیٹر یونٹ کے ایک سینئر اسرائیلی اہل کار نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر اصرار کرنا چاہیے کہ رفح راہ داری کو نہ آج اور نہ مستقبل میں سامان کی ترسیل کے لیے کھولا جائے، خواہ اس کے لیے مختلف فریقوں کے ساتھ تصادم کی نوبت ہی کیوں نہ آ جائے۔مزید برآں اسرائیلی ذرائع نے غزہ کی پٹی پر حماس تنظیم کے مسلسل کنٹرول کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ یہ بات جمعرات کو عبرانی اخبار “معاریف” نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔ اسرائیل میں کیے گئے حسابات کے مطابق ہر ٹرک کی مالیت کا تخمینہ تقریباً پانچ لالکھ شیکل لگایا گیا ہے، جس پر حماس تنظیم 15 فی صد ٹیکس وصول کرتی ہے، جو فی ٹرک 75 ہزار شیکل بنتا ہے۔ ان حسابات کے تحت حماس تنظیم یومیہ تقریباً 4.5 کروڑ شیکل صرف ٹرکوں کے داخلے کی مد میں حاصل کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے تخمینوں کے مطابق، غزہ میں اس وقت نقدی کی شدید کمی ہے، تاہم وہاں کی مارکیٹ کی ضروریات نے حال ہی میں تخلیقی حل نکالے ہیں، جن میں رقوم کی منتقلی کے لیے موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال اور بینکنگ سسٹم و منی ایکسچینجرز کے درمیان حسابات کی کلیئرنگ شامل ہے۔جہاں تک راہ داری کھولنے کا تعلق ہے، تو یہ معاملہ پہلے ہی طے پا چکا ہے کہ اسرائیل نے تین شرائط کے تحت رہائشیوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ غزہ کے رہائشیوں کے باہر نکلنے کے لیے اسرائیل، مصر اور راہ داری کا انتظام سنبھالنے والے بین الاقوامی ادارے کی سہ فریقی منظوری درکار ہوگی۔
مصری حکام کو خدشہ ہے کہ راہ داری کا کھولنا غزہ کے باسیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی ایک اسرائیلی کوشش ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ اعلان سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو ہلاک ہونے والے فوجی ران غفیلی کی باقیات کی واپسی کا بھی اعلان کیا۔اس سے قبل غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے بھی رفح راہ داری کے جلد کھلنے کا اشارہ دیا تھا۔ یاد رہے کہ مئی 2024 میں اسرائیل کے قبضے کے بعد سے یہ راہ داری شہریوں کے لیے بند ہے، جو غزہ کے باسیوں کے لیے بیرونی دنیا کا واحد زمینی راستہ ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات