تہران 06 مارچ2026ء(ایجنسی) ایران نے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے چھٹے دن نہ تو جنگ بندی اور نہ ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے ۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ نہ ہی ہمیں امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ نظر آتی ہے۔ہم نے ان سے دو بار مذاکرات کیےاور ہر بار انہوں نے مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ کیا۔ ہمیں جنگ بندی کی کوئی درخواست ملی نہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی۔ نہ ہی ہم نے انہیں کبھی ایسے پیغامات بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکااپنے بنیادی مقصد، یعنی ایران پر تیزی سے فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ کے چھ دن بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکااپنے اصل مقصد، یعنی ایک فیصلہ کن اور فوری فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب وہ ہم پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا امریکا کےساتھ خاص طور پر اس انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت تجربہ نہیں ہے۔ ہم نے گزشتہ سال اور اس سال دو بار مذاکرات کیے پھر مذاکرات کے دوران انہوں نے ہم پر حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جو مذاکرات میں مخلص نہیں ہیں اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں ہوتے۔
نہ جنگ بندی چاہتے نہ ہی امریکا کے ساتھ مذاکرات:ایران
مقالات ذات صلة



