ایرانی حملے ٹھیک نشانوں پر لگے، کہیں بھی کوئی حملہ خالی نہیں گیا
تہران، 7 مئی (یو این آئی) ایران نے جنگ کے دوران امریکی حکومت کی بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ امریکی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے 228 فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطی میں 15 امریکی اڈوں پر حملے کیے جن میں 228 اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ امریکی فوج ایران کے ڈرون حملوں کے لیے تیار نہیں تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے ٹھیک نشانوں پر لگے، کہیں بھی کوئی حملہ خالی نہیں گیا۔ نشانہ بنائے گئے 228 فوجی اثاثوں میں کئی مکمل تباہ اور کئی کو شدید نقصان پہنچا۔سیٹلائٹ تصاویر سے سامنے آنے والا نقصان ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ نے ایران کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھا اور نئے جنگی حالات کے مطابق دفاعی حکمتِ عملی نہ بدل سکا، جس کے نتیجے میں اس کے تھاڈ اور پیٹریاٹ انٹر سیپٹرز بڑی تعداد میں تباہ ہوئے۔ سیٹلائٹ تصویروں کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ تباہ ہوئی چیزوں میں طیارہ و ہینگ، میزائل ڈیفنس سسٹم، ایندھن و رہائش اور مواصلاتی مرکز شامل ہیں۔اس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں: • طیارہ و ہینگر— سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایندھن بھرنے والے ٹینکر اور ای-3 طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔ • میزائل ڈیفنس سسٹم— کویت اور بحرین میں تعینات پیٹریٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور اردن و یو اے ای میں تھاڈ رڈار مشینوں کو ہدف بنایا گیا۔ • ایندھن اور رہائش— کئی ٹھکانوں پر ایندھن ڈیپو، فوجیوں کے رہنے کے بیرک، جِم اور ڈائننگ ہال بھی ملبہ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ • مواصلاتی مرکز— قطر کے العدید ایئر بیس پر اہم سیٹلائٹ مواصلاتی مراکز اور رڈار گنبدوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ • بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت کے 3 اہم اڈوں پر نصف سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق فروری سے شروع ہوئی اس جنگ میں اب تک کم از کم 7 امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے اپنے حملوں میں صرف عمارتوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ امریکہ کے ’ڈیجیٹل نروس سسٹم‘ یعنی مواصلات و سیکورٹی نظام پر براہ راست حملہ کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے قصداً ان ٹھکانوں کو منتخب کیا جو امریکہ کے لیے اسٹریٹجک طور پر سب سے مہنگے اور نایاب ہیں۔ انھوں نے براہ راست رڈار ایریا پر حملہ کرنے کی جگہ ان عمارتوں کو نشانہ بنایا جہاں ڈیٹا پروسیسنگ، کولنگ سسٹم اور بجلی پروڈکشن کی سہولتیں تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر رڈار محفوظ بھی رہے تو انھیں چلانے والا سسٹم ختم ہو گیا ہے۔ تجزیہ نگار ولیم گڈہینڈ کے مطابق ایران نے سافٹ ٹارگیٹ یعنی فوجیوں کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا تھا کہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594204