ہومInternationalآئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو پیچھے چھوڑ دیا

آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو پیچھے چھوڑ دیا

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تل ابیب، 25 جون (یو این آئی) اسرائیل کے سابق فوجی سربراہ اور حزب اختلاف کے لیڈر گادی آئزنکوٹ بنیامین نیتن یاہو سے آگے نکل گئے ہیں۔بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک نئے عوامی سروے میں گادی آئزنکوٹ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے آگے نکل گئے۔ یہ نتیجہ اپوزیشن شخصیات یائر لاپیڈ اور نفتالی بینیٹ کی عوامی حمایت میں کمی کے بعد سامنے آیا۔ اسرائیل کے چینل 13 ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے سروے نتائج کے مطابق، 43 فیصد شرکاء نے آئزنکوٹ کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا اور 39 فیصد نے نیتن یاہو کو ترجیح دی ہے۔سروے نتائج کے مطابق آئزنکوٹ، بینیٹ پر21 فیصد کے مقابلے میں 42 فیصد کی برتری رکھتے ہیں اور نیتن یاہو نے بینیٹ کو 41 فیصد کے مقابلے میں 44 فیصد سے پیچھے چھوڑ دیا۔ سروے کے مطابق اگر آج پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں تو نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 23 نشستیں حاصل کرے گی، جبکہ آئزنکوٹ کی اپوزیشن جماعت یشار پارٹی 20 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگی۔سیاسی بحث سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ لاپیڈ اور بینیٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کی مقبولیت مزید کم ہو گئی ہے اور وہ صرف 15 نشستیں حاصل کر پائے گا۔ مجموعی طور پر، نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کرے گا، جبکہ اپوزیشن جماعتیں 57 نشستیں جیتیں گی۔ اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں 10 نشستیں حاصل کریں گی۔ چینل 13 نے سروے کی تاریخ، نمونے کے حجم یا ممکنہ غلطی کے تناسب کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ تاہم، چینل کے مطابق اس سروے کی نگرانی محققین کی ایک ٹیم نے کی، جس میں شمویل روزنر، یوسف مکلادا، ڈاکٹر آریل ایالون، ڈوری ڈرور اور پروفیسر ڈیوڈ اسٹین برگ شامل تھے۔یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں ممکنہ انتخابات سے قبل جنگوں، سکیورٹی پالیسی اور ملک کی آئندہ قیادت کے بارے میں سیاسی مباحثے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ جمعہ کے روز اخبار معاریو (Maariv) میں شائع ہونے والے ایک اور سروے کے مطابق، اگر آج انتخابات ہوں تو اپوزیشن 61 نشستیں حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی، جبکہ نیتن یاہو کا سیاسی بلاک 49 نشستیں حاصل کرسکے گا۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.