ہوم International یورپ میں شدید گرمی کا قہر

یورپ میں شدید گرمی کا قہر

0
Facebook Messenger Twitter WhatsApp

شدید گرمی سے بچنے کے لیے سمندر میں نہانے والے 40 افراد ڈوب کر ہلاک

پیرس، 24 جون(یو این آئی) یورپی ممالک شدید گرمی کی زد میں ہیں، فرانس میں پارہ 43 ڈگری سیلسیس کو چھو گیا، شدید گرمی کے دوران غیر محفوظ مقامات پر نہاتے ہوئے کم از کم 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔فرانس میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ملکی تاریخ کی سب سے گرم رات ریکارڈ کی گئی، اسی دوران فرانسیسی وزیرِ اعظم سباسٹین لیکرنو نے بتایا کہ 18 جون کے بعد سے ملک بھر میں شدید گرمی سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔وزیر اعظم نے اموات کو ایک افسوسناک آفت قرار دیا اور کہا یہ اس بحران کے پہلے متاثرین ہیں جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ فرانسیسی محکمۂ موسمیات کے مطابق، ملک کے جنوب مغربی علاقے میں منگل کو درجۂ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ (109 فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا تھا۔ فرانس میں ایئر کنڈیشننگ کا استعمال وسیع پیمانے پر رائج نہیں ہے، جس کی وجہ سے ریکارڈ توڑ گرمی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔شدید درجۂ حرارت کے باعث متعدد اسکول بند کر دیے گئے، مختلف تقریبات منسوخ کرنی پڑیں اور ریل سروس بھی متاثر ہوئی۔ حکام کے مطابق 800 سے زائد اسکول بند کر دیے گئے ہیں، شدید گرمی کے سبب پیرس کا ایفل ٹاور بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق جنوب مشرقی فرانس کے شہر کارپنٹراس میں 2 اور 4 سال عمر کے 2 بچے اپنے گھر کے باہر ایک گاڑی میں بے ہوش پائے گئے اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے ممکنہ وجہ شدید گرمی تھی۔ اسی طرح بورڈوکس کے علاقے میں 80 اور 95 سال عمر کے 3 افراد گرمی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ خیال رہے کہ برطانیہ میں ریڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے، انگلینڈ اور ویلز میں 300 سے زائد اسکول بند کیے گئے ہیں، پنکھوں کی فروخت بڑھ گئی ہے، اسپین، اٹلی اور بلیجیئم میں بھی شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

Exit mobile version