ہومInternationalامریکی دباؤ کے باوجود پاکستان اور عمان کے ذریعے ایران کی سفارتی...

امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان اور عمان کے ذریعے ایران کی سفارتی کوششیں تیز

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تہران، 18 مئی (یو این آئی) حالیہ دنوں میں امریکی دھمکیوں میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ عسکری کارروائیوں کی طرف لوٹنے کے امکانات کے مابین، ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل پاکستانی وساطت سے بدستور آگے بڑھ رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز بریفنگ کے دوران بتایا کہ واشنگٹن کی طرف سے ہماری حالیہ تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود، ہمیں پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکی موقف کا ایک نیا مجموعہ موصول ہوا ہے۔اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ ان مذاکرات میں تہران کے بنیادی مطالبات میں بیرونِ ملک منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی مکمل بحالی اور مغربی پابندیوں کا فوری خاتمہ شامل ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ فروری کے اواخر سے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی نقل و حرکت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے بقائی نے اعلان کیا کہ ان کا ملک اس تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ سے جہازوں کے گزرنے کا ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے سلطنتِ عمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور اس سلسلے میں ایران اور عمان کے ماہرین کے مابین ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعادہ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے کے امن کے لیے اصل خطرہ ہیں، جبکہ ایران کی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ اس سے قبل متعدد ایرانی حکام بھی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ہرمز سے منظم طریقے سے بحری ٹریفک گزارنے کا طریقہ کار وضع کرنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔یاد رہے کہ ایران کی جس حالیہ تجویز کو واشنگٹن نے مسترد کیا، اس میں تہران پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے، منجمد اثاثوں کی واگزاری اور یورینیم افزودگی کے ایرانی حق کو تسلیم کرنے کی شرائط شامل تھیں، چاہے اس کے لیے افزودگی کو چند سالوں کے لیے معطل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اس نکتے پر ایرانی فریق کی جانب سے لچک دکھانے کا تاثر ملا ہے۔ تاہم، تہران نے اعلیٰ افزودہ یورینیم کو امریکہ منتقل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ہرمز کی صورتحال اب اس نہج پر واپس نہیں جائے گی جیسی گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑنے سے پہلے تھی۔ ایران نے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے نقصان کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے۔اس کے برعکس، واشنگٹن نے ایرانی حدود میں بمباری سے ہونے والے کسی بھی نقصان کا معاوضہ ادا کرنے سے قطعاً انکار کر دیا ہے اور ایران کے اندر موجود 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کو لازمی طور پر امریکہ منتقل کرنے پر اصرار کیا ہے۔
امریکی فریق نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ ایران کے اندر جوہری تنصیبات کا صرف ایک سیٹ چلانے کی اجازت ہوگی، جبکہ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی فنڈز میں سے 25 فیصد سے زیادہ رقم رہا کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.