واشنگٹن، 18 مئی (یواین آئی): امریکہ اور چین نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت چین نے اگلے تین سالوں تک ہر سال کم از کم 17 ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ خریداری اکتوبر 2025 میں سویا بین کی خریداری کے حوالے سے کیے گئے گذشتہ وعدوں کے علاوہ ہوگی۔تجارتی شعبے سے ہٹ کر، اس معاہدے کے تحت دو نئے دوطرفہ ادارے ‘امریکہ-چین ٹریڈ بورڈ اور ‘امریکہ-چین انویسٹمنٹ بورڈ، بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کا مقصد صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاشی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں فریقین نے ایران، شمالی کوریا اور آبنائے ہرمز سمیت اہم جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) معاملات پر بھی یکساں موقف اپنانے کے اشارے دیے ہیں۔دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی اس وسیع تر کوشش کے تحت چین نے 200 امریکی بوئنگ طیاروں کے ابتدائی آرڈر کی منظوری بھی دی ہے، جو کہ 2017 کے بعد بیجنگ کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا بڑا فیصلہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے امریکہ میں اعلیٰ مہارت والی مینوفیکچرنگ ملازمتوں کو فروغ ملے گا اور ہوا بازی کے شعبے میں طویل مدتی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔یہ اہم پیش رفت دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے عالمی اقتصادی استحکام کو بہتر بنانے اور باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔ واشنگٹن نے ان مذاکرات کو اسٹریٹجک اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی جامع قرار دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اسے 2017 کے بعد کا سب سے اہم امریکہ-چین معاہدہ تسلیم کر رہا ہے۔اس تاریخی معاہدے کے بنیادی ستون کے طور پر قائم کیے جانے والے ‘امریکہ-چین ٹریڈ بورڈ، اور ‘امریکہ-چین انویسٹمنٹ بورڈ، غیر حساس اشیاء کی دوطرفہ تجارت کی نگرانی کریں گے ۔
ٹرمپ کا چین کے ساتھ سربراہی اجلاس: سالانہ 17 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات کی خریداری کا وعدہ
مقالات ذات صلة
