عالمی میڈیا آزادی 25 سال کی کم ترین سطح پر
بیجنگ/جنیوا، 3، مئی ۔ ایم این این ۔ عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی گزشتہ 25 برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ چین کو ایک بار پھر دنیا میں صحافیوں کے لیے سب سے بڑی جیل قرار دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف رپورٹرس ود آؤٹ بارڈرز (RSF) کی تازہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس 2026 رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پہلی بار گزشتہ 25 سال کی تاریخ میں دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک میں پریس کی آزادی کی صورتحال مشکل یا’انتہائی سنگین‘ درجے میں آ چکی ہے۔ عالمی سطح پر اوسط اسکور بھی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جو میڈیا آزادی میں مجموعی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ چین کو اس حوالے سے سب سے بڑا خلاف ورزی کرنے والا ملک قرار دیا گیا ہے، جہاں درجنوں نہیں بلکہ سو سے زائد صحافی اور میڈیا ورکرز قید ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت نگرانی، دباؤ، دھمکیوں اور ہراسانی جیسے ہتھکنڈے استعمال کر کے آزاد صحافت کو محدود کرتی ہے، خاص طور پر ان موضوعات پر جو حکومت کے نزدیک’حساس‘ سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا کی آبادی کا وہ حصہ جہاں میڈیا کی آزادی کو’اچھا‘ قرار دیا جا سکتا ہے، نمایاں طور پر کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے، جو عالمی سطح پر اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جدید دور میں صحافت پر دباؤ کے طریقے مزید پیچیدہ اور منظم ہو گئے ہیں، جن میں ریاستی کنٹرول، معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی روک تھام شامل ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں صحافیوں کی گرفتاریوں اور میڈیا پر پابندیوں کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے آزاد صحافت کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593829