لاکھوں افراد شدید سردی کی زد میں
واشنگٹن، 27 جنوری (ہ س)۔ امریکہ کے بڑے حصے میں ہفتے کے آخر میں آئے موسم سرما کے زبردست طوفان نے کافی تباہی مچائی ہے۔ برفباری، برفانی ہواؤں اور ریکارڈ توڑ سردی کے باعث اب تک کم از کم 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہے۔ ٹیکساس کے فریسکومیں ایک 16 سالہ لڑکا سلیڈنگ حادثے میں ہلاک ہو گیا، جب کہ آسٹن کے علاقے میں ایک شخص کی مشتبہ ہائپوتھرمیا سے موت ہو گئی ۔ لوزیانا میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ آرکنساس میں سلیڈنگ کے حادثے میں ایک 17 سالہ لڑکا ہلاک ہو گیا، اور شمالی کیرولائنا میں ایک ہائی وے پر ایک شخص کی لاش ملی۔نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں شہر میں کھلے میں پانچ افراد مردہ پائے گئے۔ کنساس میں ایک خاتون سردی سے چل بسی اور برف میں ڈھکی پائی گئی۔ میساچوسٹس میں اسنو پلاو کی زد میں آنے سے ایک خاتون ہلاک ہوگئی، جبکہ ٹینیسی میں موسم سے متعلق تین اموات درج کی گئیں۔نیشنل ویدر سروس (این ڈبلیو ایس ) کے مطابق، ٹیکساس سے نیو انگلینڈ تک تقریباً 20کروڑ لوگ سردی کے انتباہ کے تحت ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے مشرقی دو تہائی علاقوں میں آنے والے دنوں میں ’’شدید سردی، درجہ حرارت زیرو سے نیچے اور ریکارڈ سردی‘‘ دیکھی جا سکتی ہے، جو فروری کے اوائل تک جاری رہ سکتی ہے۔طوفان نے ملک بھر میں 8لاکھ سے زائد افراد کو بجلی سے محروم کر دیا، جس میں ٹینیسی، مسیسیپی اور لوزیانا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ فضائی ٹریفک بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کل 10,500 سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں، جب کہ پیر کو تقریباً 4,000 پروازیں منسوخ کی گئیں۔برف باری کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو میساچوسٹس کے کچھ علاقوں میں 20 انچ تک برف پڑی جب کہ پنسلوانیا میں 23 انچ تک برف پڑی۔ اگرچہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اب وسطی اور مشرقی ریاستہائے متحدہ کے بیشتر حصوں میں برف باری رک گئی ہے لیکن سردی کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔



