کیجریوال کی آنکھیں آنسووئں سے لبریز:سچ کی جیت ہوئی ہے
نئی دہلی، 27 فروری (یو این آئی) دہلی کی ایک عدالت نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سمیت 23 ملزمین کو شراب پالیسی سے متعلق مبینہ گھپلے کے معاملے میں جمعہ کے روز بری کر دیا۔ فیصلہ آنے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران مسٹر کیجریوال جذباتی ہو گئے۔صحافیوں سے گفتگو میں عدلیہ پر اپنا اعتماد دہراتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ ان کی پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ آخرکار جیت سچ کی ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستانی نظامِ انصاف پر مکمل بھروسہ ہے اور ہم اپنے اور اپنے ساتھیوں پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے کنوینر نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ‘بھارتیہ جنتا پارٹی ہم پر الزام لگا رہی تھی، لیکن عدالت نے سب کو بری کر دیا، ۔ امت شاہ اور مودی جی نے مل کر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کی بڑی سیاسی سازش رچی اور پارٹی کے پانچ بڑے لیڈران کو جیل میں ڈالا گیا۔ عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے اروند کیجریوال کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں پوسٹ کر کے کہا کہ کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے، وہ خدائی انصاف سے بالاتر نہیں ہے اور سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔وہیں سابق وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہیں بی آر امبیڈکر کے تصور و نظریات کے تحت بنے آئین پر فخر ہے اور بار بار انہیں بے ایمان ثابت کرنے کی کوششوں کے باوجود عدالت کے فیصلے نے ان کے مؤقف کو درست ثابت کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے بھی عدالت کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی اور اس کے رہنماؤں کو بدنام کرنے کی بڑی سازش بے نقاب ہوئی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں مرکز کی برسرِ اقتدار حکومت پر تفتیشی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور معافی کا مطالبہ کیا۔اس دوران کیجریوال کے وکیل ایڈوکیٹ وویک جین نے کہا کہ عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور پایا کہ کوئی بھی الزام فردِ جرم عائد کرنے کے لیے درکار قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ان کے مطابق عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں، جو الزامات کی تصدیق کرتا ہو اور یہ بھی نوٹ کیا کہ آبکاری پالیسی باقاعدہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت تیار کی گئی تھی۔عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اور سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی آبکاری پالیسی معاملے میں بری ہونے کے بعد کہا کہ سچائی کی جیت ہوئی ہے۔فیصلہ آنے کے بعد راؤز ایونیو عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیجریوال جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے عدلیہ پر اپنے اعتماد کا اعادہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ معاملہ ان کی پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ آخرکار جیت سچ کی ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستانی نظامِ انصاف پر مکمل بھروسہ ہے اور ہم نے اپنے اور اپنے ساتھیوں پر لگے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آخر میں ناانصافی اور ظلم شکست کھاتے ہیں اور سچ ہی غالب آتا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے اس معاملے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔کیجریوال نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مل کر عام آدمی پارٹی کو ختم کرنے کی بڑی سیاسی سازش رچی اور پارٹی کے پانچ سرکردہ رہنماؤں کو جیل بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو ان کے گھر سے گھسیٹ کر جیل میں ڈال دیا گیا جو ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے خود کو بے قصور قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا جبکہ سابق نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سسودیا کو تقریباً دو سال جیل میں گزارنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر ان کی کردار کشی کی گئی اور انہیں بدعنوان قرار دیا گیا۔



