بیجنگ۔4؍ اپریل۔ ایم این این۔ چین کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے باعث احتجاجی مظاہروں کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے، جس کے بعد حکام نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، یہ مظاہرے ماحولیاتی خدشات، زمین کے تنازعات اور مقامی حکمرانی سے متعلق مسائل پر عوامی ناراضگی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شہروں میں شہریوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ وسطی شہر ووہان میں ایک بیٹری مینوفیکچرنگ منصوبے کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جہاں ہزاروں افراد نے ماحولیاتی خدشات کے پیش نظر سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا جبکہ احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے سخت کارروائی کی گئی۔ اسی طرح جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ کے علاقے شوئیکو میں ایک قبرستان (کریمیٹوریم) کی تعمیر کے خلاف تقریباً تین ہزار افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اس منصوبے کو رہائشی علاقوں اور اسکول کے قریب ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں پولیس اور عوام کے درمیان تصادم ہوا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ دارالحکومت بیجنگ میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جہاں حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ احتجاج سیاسی استحکام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظر نئے سیکیورٹی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں ڈرونز کے استعمال پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔ نئے قواعد کے تحت بغیر اجازت ڈرون اڑانے، بنانے یا ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ تمام ڈرونز کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں ایسے احتجاج عام طور پر مقامی مسائل سے جڑے ہوتے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی تعداد اور شدت حکام کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی سوشل کنٹرول اور نگرانی کے سخت نظام کے ذریعے عوامی ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین میں آزادی اظہار اور اجتماع پر سخت پابندیاں برقرار ہیں، اور حکومت کسی بھی قسم کے عوامی اختلاف کو فوری طور پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
چین بھر میں احتجاجی لہر، عوامی بے چینی میں اضافہ، سیکیورٹی سخت
مقالات ذات صلة



