Tuesday, February 24, 2026
ہومInternationalایران اور امریکہ جنگ کے سائے گہرے، 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر...

ایران اور امریکہ جنگ کے سائے گہرے، 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر دئیے گئے

امریکہ سے بات چیت کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں

امریکی اقدامات پر نظر: ایرانی صدر

ایران نے امریکہ کو اپنی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کی پیشکش کردی

تہران، 23 فروری (یو این آئی) ایران نے جوہری مذاکرات میں امریکہ کو اپنی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کی پیشکش کردی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں زیرغور معاشی پیکج میں امریکہ کو سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے تاہم ایران اپنے تیل اور معدنی وسائل کا کنٹرول کسی کے حوالے نہیں کرے گا۔ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ ایران کا صرف معاشی شراکت دار ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، امریکی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس فیلڈ میں ہمیشہ ٹھیکے دار کے طور پر ہی کام کرسکیں گی۔خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا پُرامن جوہری افزودگی کے بدلے ایران علاقائی افزودگی کنسورشیم کے قیام پر غور کر سکتا ہے۔خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، امریکی اقدامات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ ہم امریکا کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اورکسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی نمایندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے جنیوا میں جمعرات کو ملاقات ہو سکتی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارتی حل کا اچھا امکان موجود ہے۔
یو این آئی نے واشنگٹن،ڈیٹ لا ئن سے خبر دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھنے لگے دوسرے امریکی بحری بیڑے کے بعد اردن ایئربیس پر بھی 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر دیے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کا دوسرا بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے جب کہ اردن کے ایئربیس پر بھی 60 لڑاکا طیارے کھڑے کر دیے گئے ہیں۔دوسری جانب ایران نے امریکی جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط دفاعی نظام تیار کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دفاعی نظام میں مختلف قسم کے میزائل، ڈرون، سب میرینز اور بارودی سرنگیں شامل ہیں۔دریں اثنا امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کہتے ہیں کہ ایران شاید ایٹم بم بنانے سے ایک ہفتہ دور ہے، لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ ایران 60 فیصد سے زیادہ افزودگی تک پہنچ چکا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سویلین مقاصد کیلیے ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔مذاکرات سے پہلے صدرٹرمپ نے بتا دیا تھا کہ یورینیم کی افزودگی ہماری ریڈ لائن ہے۔ صدرٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانیوں نے شدید دباؤ کے باوجود ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔ اتنے دباؤ میں وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آئے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات