دہلی آبکاری پالیسی: وزیر اعلیٰ کیجریوال کو ملی راحت بھری خبر، منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے دی مستقل ضمانت

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو عدالت نے آج بڑی راحت دیتے ہوئے آبکاری گھوٹالہ سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے میں مستقل ضمانت دینے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ ایک لاکھ روپے مچلکہ پر دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ نے انھیں ضمانت دینے کا اعلان کیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ جمعہ یعنی کل دوپہر کیجریوال تہاڑ جیل سے باہر آ جائیں گے۔
ای ڈی (انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ) نے وزیر اعلیٰ کیجریوال کو مستقل ضمانت دیے جانے کی مخالفت کے لیے 48 گھنٹہ کا وقت طلب کیا، لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بدلاؤ سے انکار کر دیا۔ راؤز ایونیو کورٹ کی تعطیل جج نیائے بندو نے کہا کہ ضمانت کے حکم پر کوئی روک نہیں لگے گی۔ اس معاملے میں اب ای ڈی اونچی عدالت کا رخ کر سکتی ہے۔
بہرحال، عدالت کے فیصلے کے بعد عآپ میں زبردست خوشی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سچائی پریشان ہو سکتی ہے، شکست نہیں کھا سکتی۔‘‘ اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’بی جے پی کی ای ڈی کے تمام اعتراضات کو خارج کرتے ہوئے عزت مآب عدالت نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو ضمانت دے دی ہے۔‘‘ دہلی حکومت میں وزیر آتشی نے بھی اس تعلق سے ایک پوسٹ کیا ہے جس میں ’ستیہ میو جیتے‘ کیپشن کے ساتھ وزیر اعلیٰ کیجریوال کی تصویر لگائی ہے۔
واضح رہے کہ دہلی آبکاری معاملہ سے جڑے منی لانڈرنگ کیس کی جانچ کر رہی ای ڈی نے کیجریوال کو رواں سال 21 مارچ کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ اس سے پہلے کیجریولا کو 9 بار سمن جاری کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد کیجریوال کئی دنوں تک ای ڈی کی حراست میں تھے۔ اس کے بعد عدالت نے انھیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس درمیان لوک سبھا انتخابی تشہیر کے لیے انھیں عبوری ضمانت ملی تھی۔ پھر 2 جون کو انھوں نے عدالتی ہدایت کے مطابق خود سپردگی کر دی تھی۔ اب انھیں مستقل ضمانت مل گئی ہے تو عآپ لیڈران و کارکنان میں زبردست خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
