National

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے الیکٹورل بانڈ اور لوک سبھا انتخاب سے متعلق اہم سوالوں کا دیا جواب

65views

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کئی اہم سوالوں کے جواب دیے۔ انھوں نے الیکٹورل بانڈ سے متعلق کہا کہ وقت آنے پر انتخابی کمیشن الیکٹورل بانڈ سے متعلق مکمل تفصیل ظاہر کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل شفافیت میں یقین رکھتا ہے اور وقت پر ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان… آفتاب احمد منیری

دراصل راجیو کمار جموں و کشمیر کا دورہ ختم کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن مرکز کے زیر انتظام خطہ میں اسمبلی کے ساتھ ساتھ لوک سبھا انتخاب کرانے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ملک بھر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب یقینی بنائیں گے۔ ہم جموں و کشمیر سمیت ملک بھر کے ووٹرس سے ’جمہوریت کے تہوار‘ میں پورے جوش کے ساتھ حصہ لینے کی گزارش کرتے ہیں۔‘‘

بی جے پی حکومت نے لداخ کے ساتھ دھوکہ کیا، عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا: پرینکا گاندھی

لوک سبھا انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنے سے پہلے ملک گیر دورے کے خاتمہ پر راجیو کمار سے یہ سوال خاص طور پر کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد انتخابی کمیشن 12 اپریل 2019 سے خریدے گئے الیکٹورل بانڈ کی تفصیل کا انکشاف کرے گا؟ اس کے جواب میں راجیو کمار نے کہا کہ ’’ایس بی آئی کو 12 مارچ تک تفصیل سونپنی تھی۔ انھوں نے ہمیں وقت پر تفصیل دے دی۔ میں واپس جاؤں گا اور تفصیل کو دیکھوں گا، اور یقینی طور سے وقت آنے پر اس کا انکشاف کیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن شفافیت کے اعلیٰ پیمانوں کو یقینی بنانے کے لیے صرف ’انکشاف، انکشاف اور انکشاف‘ میں یقین کرتا ہے۔

’ہمارے 200 سے 300 کروڑ روپے روک دیں گے تو غیر جانبدارانہ الیکشن کس طرح ہوگا؟‘ کانگریس صدر کھڑگے کا سوال

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ایس بی آئی کو 12 اپریل 2019 سے خریدے گئے الیکٹورل بانڈ کی تفصیل الیکشن کمیشن کو سونپنے کی ہدایت دی تھی۔ ایس بی آئی نے منگل کی شام کو ان اداروں کی تفصیل پیش کر دی جنھوں نے اب ختم ہو چکے الیکٹورل بانڈ خریدے تھے اور سیاسی پارٹیوں نے انھیں استعمال کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق انتخابی کمیشن کو 15 مارچ کی شام 5 بجے تک بینک کے ذریعہ شیئر کی گئی جانکاری اپنی آفیشیل ویب سائٹ پر شائع کرنی ہوگی۔

Follow us on Google News