ہائی کورٹ نے سابق معاہداتی مدت کو بھی پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد میں شامل کرنے کا حکم دیا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، یکم جولائی:۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وہ پارا ٹیچر جنہوں نے بعد میں باقاعدہ تقرری کے عمل کے ذریعے انٹرمیڈیٹ تربیت یافتہ استاد کی حیثیت سے تقرری حاصل کی، ان کی سابقہ معاہداتی مدت کو بھی پنشن کے لیے قابلِ خدمت مانا جائے گا۔ جسٹس دیپک روشن کی عدالت نے مانک چندر منڈل، اُتپل کمار مکھرجی اور عبد الحمید انصاری کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم صادر کیا۔عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ درخواست گزاروں کی پیرا استاد کی حیثیت سے انجام دی گئی خدمات کو پنشن کے لیے شمار کرتے ہوئے گریجویٹی اور دیگر تمام ریٹائرمنٹ فوائد کا ازسرنو حساب لگایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ فیصلے کی نقل موصول ہونے کے 8 ہفتوں کے اندر تمام واجبات ادا کیے جائیں، جبکہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے حقیقی ادائیگی تک 6 فیصد سالانہ سادہ سود بھی ادا کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزاروں نے 8 سے 12 برس تک پارا ٹیچر کے طور پر مسلسل خدمات انجام دینے کے بعد باقاعدہ تقرری حاصل کی تھی اور ان کی معاہداتی خدمت بغیر کسی حقیقی وقفے کے مستقل ملازمت میں تبدیل ہوئی۔ چونکہ مستقل تقرری کے لیے ان کی سابقہ خدمات بنیادی اہلیت کا حصہ تھیں، اس لیے انہیں پنشن اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وکلا منوج ٹنڈن اور شوانی بھاردواج نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔









Users Today : 13
Users Yesterday : 274
Users Last 7 days : 2389
Users Last 30 days : 7932
Users This Month : 287
Users This Year : 7946
Total Users : 4569489