ڈیموکریٹس کی تنبیہ کے باوجود سینکڑوں ملازمین برطرف
واشنگٹن، 23 جون (یو این آئی) سی این این کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کے روز امریکہ کی اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ایجنسی میں بڑے پیمانے پر ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق، آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس میں ممکنہ طور پر سینکڑوں ملازمین کو برطرفی کے پروانے تھمائے جا رہے ہیں۔ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستِ راست اور نامزد کردہ قائم مقام ڈائریکٹر بل پُلٹے کی جانب سے کی جا رہی ہے، جن کے تقرر پر کانگریس میں شدید تنازع کھڑا ہوا تھا کیونکہ وہ انٹیلی جنس کا کوئی پس منظر نہیں رکھتے۔سب سے پہلے اس برطرفی کی خبر دینے والے نیٹ ورک سی این این کو ایک ذریعے نے بتایا، “ڈیپ اسٹیٹ کے ملازمین کو نکالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔” تاہم، ختم کی جانے والی ملازمتوں کی درست تعداد ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ سی این این کے مطابق، پُلٹے گزشتہ ہفتے اپنی نئی ملازمت پر طے شدہ وقت سے ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے، اور انہوں نے دفتر کے تمام ملازمین کی فہرست طلب کر لی، جس سے بظاہر سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ بھی حیران رہ گئیں۔ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ اس بڑے پیمانے کی کٹوتی سے جن دو محکموں کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے، وہ قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز اور نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر ہیں۔ ملازمین کو نکالنے کا یہ اقدام سینیٹ اور ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کے اعلیٰ ڈیموکریٹس کی تنبیہ کے باوجود کیا گیا۔ انہوں نے پیر کے روز پُلٹے کو ایک خط بھیجا تھا جس میں “افرادی قوت میں بڑی کٹوتیوں کے خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا”۔سینیٹر مارک وارنر اور نمائندے جم ہائیمز نے اپنے خط میں لکھا، “ہمیں ان رپورٹس پر گہری تشویش ہے کہ آپ اسی ہفتے آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (ODNI) کے سینکڑوں افسران کو نوکری سے نکالنے یا انہیں چھٹی پر بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھا، “اگرچہ ODNI کی افرادی قوت میں ذمہ دارانہ کمی پر غور کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن کوئی بھی بڑی کٹوتی 2025 میں پہلے سے کی گئی نمایاں ڈاؤن سائزنگ کے بعد ہوگی۔ اس سے ایک ایسے ادارے کے مشن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جسے خاص طور پر نائن الیون (9/11) کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو روکا جا سکے۔”جب وائٹ ہاؤس سے ان برطرفیوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ٹرمپ کی ایک پوسٹ کی طرف اشارہ کیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے پُلٹے سے “دفتر میں فوری اور ضروری کٹوتی کرنے اور عملے کو ان کی اصل ایجنسیوں میں واپس بھیجنے” کا کہا ہے۔ ایک الگ ذریعے نے این بی سی نیوز (NBC News) کو بتایا کہ پُلٹے نے “عملے کے ارکان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر سے نکالے جانے والے 400 ملازمین کی نشاندہی کریں” جنہیں آنے والے ہفتوں میں فارغ کیا جائے گا۔ یہ کٹوتیاں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کے قانون سازوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں کیونکہ انسدادِ دہشت گردی کا یہ یونٹ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ “دہشت گردی کے خطرات اور مشتبہ عسکریت پسندوں کی نگرانی کی جا سکے اور وفاقی ایجنسیوں سے معلومات کو یکجا کیا جا سکے”۔انٹیلی جنس کے سابق حکام نے این بی سی کو بتایا کہ عملے میں اس بڑے پیمانے کی کمی سے “دہشت گردانہ منصوبوں کا پتہ لگانے اور انہیں روکنے کی حکومتی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے”۔ وارنر اور ہائیمز کی طرف سے پُلٹے کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں خاص طور پر اس مسئلے کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی میں آپ کے تجربے کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اتنے کم وقت میں آپ نے اس بات کا مکمل جائزہ لے لیا ہے کہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر ODNI کا حجم کیسے کم کیا جائے۔”










Users Today : 2266
Users Yesterday : 451
Users Last 7 days : 2689
Users Last 30 days : 5557
Users This Month : 5543
Users This Year : 5557
Total Users : 4567100