سات لاکھ سے زائد مکان مالکان کو راحت، 60 دن کے اندر آن لائن درخواست دینے کی ہدایت
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 14 مئی:۔ رانچی سمیت ریاست بھر کے لاکھوں مکان مالکان کے لیے جمعرات کا دن خوشیوں کی نوید لے کر آیا۔ ریاستی حکومت نے ایک تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے ان مکانات اور عمارتوں کو قانونی شناخت دینے کا عمل شروع کر دیا ہے جو بغیر نقشہ پاس کرائے تعمیر کیے گئے تھے۔ محکمہ شہری ترقی (ٹاؤن ڈویلپمنٹ) نے اس مقصد کے لیے ‘بلڈنگ پلان اپروول مینجمنٹ سسٹم ‘ (BPAMS) پورٹل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے شہری اب گھر بیٹھے اپنی غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ (Regularize) بنانے کے لیے آن لائن درخواست دے سکیں گے۔
نئے پورٹل کا قیام اور حکومت کا مقصد
وزیر برائے شہری ترقی سدیویہ کمار نے اس اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ایک طویل عرصے سے عوام اپنے مکانات کو قانونی حیثیت دلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ماضی میں کوئی ٹھوس طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پریشان تھے۔ اب پوری کارروائی کو آن لائن اور شفاف بنا دیا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس فیصلے سے ریاست کے تقریباً 7 لاکھ سے زائد مکان مالکان کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور ان کی جائیدادوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔
درخواست کا طریقہ کار اور مقررہ مدت
حکومت نے اس اسکیم کے تحت درخواست جمع کرانے کے لیے 60 دنوں کی مہلت دی ہے۔ اس متعین مدت کے اندر مکان مالکان کو پورٹل پر اپنی تمام تفصیلات اپ لوڈ کرنی ہوں گی۔ درخواست موصول ہونے کے بعد محکمہ متحرک ہو جائے گا اور 6 ماہ کے اندر تمام تکنیکی جانچ مکمل کر کے حتمی فیصلہ صادر کر دیا جائے گا۔ محکمہ شہری ترقی کے سکریٹری سنیل کمار نے واضح کیا کہ یہ عوام کے لیے ایک سنہری اور آخری موقع ہے، جس کے بعد قوانین میں مزید سختی کی جا سکتی ہے۔ سوڈا (SUDA) کے ڈائریکٹر سورج کمار نے یقین دلایا کہ پورٹل کو تکنیکی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
اہلیت کے لیے مقررہ معیار اور شرائط
اس اسکیم کا فائدہ صرف ان عمارتوں کو ملے گا جو حکومت کے طے کردہ پیرامیٹرز پر پورا اترتی ہوں۔ ضوابط کے مطابق، زیادہ سے زیادہ 300 مربع میٹر تک کے رقبے پر محیط عمارتیں ہی اس اسکیم میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ عمارت کی اونچائی 10 میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور تعمیرات صرف G+2 (گراؤنڈ پلس ٹو) تک محدود ہونی چاہئیں۔ اہل مکان مالکان کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ فیس جمع کرانی ہوگی، جس کے بعد ان کی تعمیرات کو باقاعدہ قرار دے دیا جائے گا۔
نا اہل عمارتیں اور سخت پابندیاں
حکومت نے یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ ہر غیر قانونی تعمیر کو باقاعدہ نہیں بنایا جائے گا۔ سرکاری اراضی، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز، ہاؤسنگ بورڈ اور وقف بورڈ کی زمینوں پر کی گئی تجاوزات کو اس زمرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح آبی ذخائر (Water Bodies)، ٹینک بیڈ، پارکنگ کے لیے مختص جگہوں اور سی این ٹی (CNT) و ایس پی ٹی (SPT) ایکٹ کی خلاف ورزی کر کے بنائی گئی عمارتوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ عدالتوں میں زیر سماعت متنازعہ کیسز اور جھیلوں کے کیچمنٹ ایریا میں ہونے والی تعمیرات بھی اس اسکیم کا حصہ نہیں ہوں گی۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594923