جھارکھنڈ تنظیم نے الیکشن کمیشن کے 100 روزہ ہدف کو ناممکن قرار دیا
تنظیم کا انتباہ، الیکشن کمیشن سے خامیاں دور کرنے کا مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 29؍ اپریل: الیکشن کمیشن نے ریاست جھارکھنڈ میں ایس آئی آر (اسپیشل آئیڈنٹیفیکیشن ریویو) کی تیاری کر لی ہے۔ کمیشن نے ایس آئی آر کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اسے تقریباً سو دنوں میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے، جو کہ بالکل ناممکن ہے۔ ریاست میں تقریباً 65.2 کروڑ ووٹرز ہیں۔ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعد ووٹر لسٹ کی وسیع پیمانے پر جانچ، تصدیق اور اصلاح کا کام ہوگا۔ تقریباً لاکھوں کی تعداد میں ایسے ووٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے جو غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی یا دہری اندراج کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ جھارکھنڈ کی پڑوسی ریاستوں میں ہونے والے ایس آئی آر کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ ریاست جھارکھنڈ کے مسلمانوں کو نشانہ بنا کر مستقبل میں بڑی سازش رچنے جیسا ہے۔ مذکورہ باتیں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ‘جھارکھنڈ تنظیم ‘ کے مرکزی صدر شمشیر عالم نے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر میں ووٹر لسٹ کی بنیاد 2004-2003 کو بنایا گیا ہے جس میں کئی طرح کی خامیاں ہیں۔ ناموں کے ساتھ ساتھ اس ووٹر لسٹ میں تصویروں کی غلطی واضح رہی ہے، جسے الیکشن کمیشن بھی تسلیم کرتا ہے۔ جناب عالم نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو بااثر افراد ایک بار پھر ایس آئی آر میں کامیاب ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں عام شہری جنہیں معلومات نہیں ہیں، وہ ووٹر لسٹ سے باہر ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ ایس آئی آر میں گھر گھر جا کر ووٹرز کی شناخت کرنے کا نظام ہے۔ ایسے میں اقلیتی مسلم خاندانوں کی خواتین کی شناخت کے معاملے میں محض خانہ پوری کیے جانے کا اندیشہ ہے اور اس بہانے ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی تیاری بھی کر لی گئی ہے۔ جناب عالم نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں مسلم ووٹرز انتخابی فہرست سے باہر ہو جائیں گے۔ ایس آئی آر کے حوالے سے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین بھی کافی سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی میٹنگ بلا کر ایس آئی آر سے ہونے والے برے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جناب عالم نے کہا کہ ایس آئی آر کے معاملے میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے اٹھائے گئے ہر قدم کی جھارکھنڈ تنظیم حمایت کرے گی۔ جھارکھنڈ تنظیم کے صدر نے کہا کہ تنظیم ایک سماجی تنظیم ہے جو وقت بوقت لوگوں کے درمیان بیداری پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ جھارکھنڈ تنظیم ایس آئی آر کو لے کر بیدار اور ہوشیار ہے۔ تنظیم الیکشن کمیشن سے ان خامیوں کو دور کرنے کی اپیل کرے گی۔ اس کے لیے جلد ہی تنظیم کا ایک وفد چیف الیکٹورل آفیسر سے مل کر میمورنڈم سونپے گا تاکہ آنے والے وقت میں ہونے والے ایس آئی آر کے دوران کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ایس آئی آر کے حوالے سے سماجی سطح پر پوری ریاست میں لوگوں کو بیدار کرنے اور ایس آئی آر کے ضوابط بتانے کے لیے دورہ کیا جائے گا۔ سماجی سطح پر میٹنگیں کر کے معلومات دی جائیں گی۔ جناب عالم نے کہا کہ ایس آئی آر کے بہانے اندیشہ ہے کہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹا کر انہیں مستقبل میں سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم کر دیا جائے گا۔اس موقع پر بنیادی طور پر عین الحق انصاری، سرور خان، فہیم احمد، تنویر گدی اور توصیف خان وغیرہ موجود تھے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593432