متاثرین کا انصاف کے لیے احتجاج
جدید بھارت نیوز سروس
دھنباد،27؍اپریل: آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) میں خدمات انجام دینے والے گارڈز کو یکم اپریل 2025 کو اچانک ملازمت سے ہٹائے جانے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ بغیر کسی نوٹس اور وجہ بتائے ہٹائے گئے تقریباً 110 گارڈز اب انصاف کے مطالبے کو لے کر احتجاج پر اتر آئے ہیں۔
کئی گارڈز 25 سال سے خدمات انجام دے رہے تھے
گارڈز کا الزام ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت کام سے ہٹایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو ملازمین یونین سے وابستہ تھے، انہیں نشانہ بنا کر باہر کر دیا گیا، جبکہ جو یونین کا حصہ نہیں ہیں وہ اب بھی کام کر رہے ہیں۔ نکالے گئے کئی گارڈز گزشتہ 20 سے 25 سالوں سے ادارے میں اپنی خدمات فراہم کر رہے تھے۔
ٹھیکیداروں پر سنگین الزامات
متاثرہ گارڈز نے ٹھیکیداروں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ 3 سے 4 ہزار روپے کی غیر قانونی وصولی کی جاتی تھی۔ جب انہوں نے اس وصولی کی مخالفت کی تو انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ گارڈز کا الزام ہے کہ نئے ٹھیکہ کے عمل کے تحت جان بوجھ کر انہیں باہر رکھا گیا۔اس معاملے کو لے کر گارڈز نے مرکزی محکمہ محنت (لیبر ڈپارٹمنٹ) میں شکایت درج کرائی اور ڈپٹی چیف لیبر کمشنر سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ لیکن ان کا الزام ہے کہ گزشتہ سات ماہ سے صرف یقین دہانیاں ہی مل رہی ہیں، کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
احتجاج کی وارننگ
ملازمت چھن جانے کے بعد گارڈز کی معاشی حالت انتہائی خراب ہو گئی ہے اور خاندان کی کفالت مشکل ہو چکی ہے۔ گارڈز کا کہنا ہے کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔اسی سلسلے میں آج تمام متاثرہ گارڈز نے ڈپٹی چیف لیبر کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا اور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو تحریک میں مزید شدت لائی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ محکمہ محنت اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتا ہے اور گارڈز کو انصاف مل پاتا ہے یا نہیں۔











Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593208