نئی دہلی، 27 اپریل (یو این آئی) کانگریس نے اسرائیل-فلسطین معاملے پر ہندوستان کے موقف کے تعلق سے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان ‘غیر معمولی طور پر اسرائیل کے حق میں کھڑا ہے اور برکس ممالک کے اجلاس میں اس کے موقف کی دیگر ارکان نے حمایت نہیں کی۔پارٹی کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے پیر کو یہاں ایک بیان میں کہا کہ 23-24 اپریل کو نئی دہلی میں برکس ممالک کے نائب وزرائے خارجہ اور خصوصی نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا، جو کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل-فلسطین مسئلے پر زبان کے حوالے سے رکن ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے اور ہندوستان کی جانب سے زبان کو نرم کرنے کی درخواست کو دیگر ممالک نے قبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ روس، چین، برازیل، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایران کے نمائندوں نے ہندوستان کے موقف کی حمایت نہیں کی۔ کانگریس نے اسے مودی حکومت کی غلط خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے مفادات کو متاثر کرنے والی پالیسی ہے۔مسٹر رمیش نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا واحد بڑا ملک بن گیا ہے جو غزہ، جنوبی لبنان اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں جاری واقعات کے باوجود اسرائیل کے لیے ‘غیر متزلزل حمایت برقرار رکھے ہوئے ہے، جس سے روایتی متوازن خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے تعلقات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان قربت صاف دکھائی دیتی ہے، جو ہندوستان کی پالیسی کو متاثر کر رہی ہے۔ کانگریس نے حکومت سے اس مسئلے پر اپنے موقف پر نظرثانی کرنے اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593202