مردم شماری کی وجہ سے شیڈول میں تبدیلی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 16 اپریل:۔ جھارکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کی مہم اب جون کے مہینے میں شروع ہوگی۔ اس مہم کے اعلان میں تاخیر کی بنیادی وجہ ریاست میں مئی سے شروع ہونے والی مردم شماری (Census) بتائی جا رہی ہے۔ سرکاری شیڈول کے مطابق، جھارکھنڈ میں 2026-2027 کی مردم شماری کا پہلا مرحلہ 1 مئی 2026 سے شروع ہو کر 14 جون 2026 تک جاری رہے گا۔ اس دوران یکم مئی سے 15 مئی تک ‘سیلف اینومریشن ‘ (خود شماری) اور 16 مئی سے 14 جون تک فیلڈ سروے کا کام کیا جائے گا۔
بی ایل او کے ساتھ بدسلوکی پر کمیشن کی برہمی
الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی تیاری کے سلسلے میں گھر گھر جا کر اسٹیکر چسپاں کرنے والے بی ایل اوز (BLO) کے ساتھ پیش آئے ناخوشگوار واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔ جمشید پور میں پیش آئے ایک حالیہ واقعے، جس میں بی ایل او کو ‘بچہ چور قرار دے کر ہراساں کیا گیا اور دوڑایا گیا، پر مسٹر کمار نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری عملے کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔
شہری علاقوں میں تعاون کی کمی
چیف الیکشن آفیسر کے مطابق، ووٹر لسٹ کی حتمی نظرِ ثانی سے قبل ‘پری ایکٹیویٹی کا کام جاری ہے، جس کے تحت بی ایل اوز گھر گھر جا کر معلومات جمع کر رہے ہیں۔ یہ معلومات ووٹرز کے اپنے مفاد میں ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں سرکاری دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘پیرنٹل میپنگ ‘ کا تقریباً 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ خاص طور پر شہری علاقوں میں ووٹرز تعاون نہیں کر رہے اور عملے کو گھروں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رانچی، دھنباد اور جمشید پور جیسے بڑے شہر اس مہم میں پسماندہ رہ گئے ہیں۔
ووٹروں کیلئے اہم پیغام
کے روی کمار نے واضح کیا کہ بی ایل او کے ذریعے طلب کی جانے والی دستاویزات صرف ووٹر لسٹ کی درستگی اور شہریوں کی سہولت کے لیے ہیں۔ فیلڈ سروے کے دوران سامنے آنے والی رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر لوگ تعاون نہیں کریں گے تو ووٹر لسٹ میں موجود غلطیوں کو دور کرنا مشکل ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور عوام میں بیداری پیدا کریں۔



