دورہ ہند پر آئے ہوئے جناب اسٹاکر کے ساتھ مشترکہ پریس بیان میں بولے مودی
نئی دہلی، 16 اپریل (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹاکر کے دورہ ہند سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں نئی توانائی آئے گی اور مختلف شعبوں میں آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت دنیا کے لیے قابل بھروسہ سپلائی چین کو یقینی بنائے گی دونوں ممالک دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ہندوستان اور آسٹریا نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے ہیں اور مائگریشن اینڈ موبلٹی ایگریمنٹ کو نرسنگ کے شعبے میں بھی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت ہالی ڈے پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔جناب مودی نے دورہ ہند پر آئے ہوئے جناب اسٹاکر کے ساتھ بات چیت کے بعد جمعرات کو یہاں مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کو اختراع اور مستقبل کی ضروریات پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا پختہ یقین ہے کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں اور ہم یوکرین اور مغربی ایشیا میں مستقل امن کے حامی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اور آسٹریا دونوں ہی عالمی اداروں میں اصلاحات کے پرزور حامی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔بات چیت کے بعد جناب مودی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں چانسلر اسٹاکر کے ساتھ اپنی گفتگو کو مفید قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “آسٹریا کے چانسلر اسٹاکر کے ساتھ انتہائی مفید گفتگو ہوئی۔ ہندوستان میں ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپ سے باہر اپنے پہلے دورے کے لیے ہمارے ملک کا انتخاب کیا۔ یہ ہندوستان-آسٹریا تعلقات کے تئیں ان کے وژن اور وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی یکساں طور پر خاص ہے کہ چار دہائیوں میں کسی آسٹریا کے چانسلر کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ان کا یہ دورہ تاریخی ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، جس نے ہندوستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔”
وزیر اعظم نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں نئی توانائی پیداکرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، سیمی کنڈکٹر اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں کافی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، “آج کی ہماری بات چیت میں جدت، انفراسٹرکچر اور پائیداری جیسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہم تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں نئی توانائی پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دفاع، سیمی کنڈکٹر، مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں قریبی تعلقات کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری مزید جدت پر مبنی اور مستقبل کے لیے تیار ہوگی۔”مسٹر مودی نے کہا کہ چانسلر اسٹاکر کے دورے سے ہندوستان-آسٹریا تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انفراسٹرکچر، جدت اور پائیداری کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان قابل بھروسہ شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے مختلف منصوبوں میں تعاون کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریا کی مہارت اور ہندوستان کی رفتار و وسعت کو جوڑ کر پوری دنیا کے لیے قابل بھروسہ ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کو یقینی بنائیں گے۔ ہم دفاع، سیمی کنڈکٹر، کوانٹم اور بائیو ٹیکنالوجی میں بھی اپنی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔ ساتھ ہی، ہم انجینئرنگ اور تکنیکی تعلیم کے تعاون کو بھی مزید مستحکم کریں گے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آسٹریا کی مونٹان یونیورسٹی کے درمیان آج جس مفاہمت نامہ پر دستخط کیے جا رہے ہیں، وہ علم کے تبادلے کی ایک روشن مثال ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 2023 میں ہندستان نے آسٹریا کے ساتھ ایک جامع مائگریشن اینڈ موبلٹی معاہدہ کیا تھا۔ اب دونوں ممالک نرسنگ سیکٹر میں بھی نقل و حمل کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم مشترکہ تحقیق اور اسٹارٹ اپ تعاون کو بھی مزید مضبوط کریں گے۔ نوجوانوں کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے ہم آج ہندوستان-آسٹریا ورکنگ ہالی ڈے پروگرام بھی شروع کر رہے ہیں۔مغربی ایشیا اور یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ فوجی تصادم سے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “آج پوری دنیا ایک بہت ہی سنگین اور تناؤ والی صورتحال سے گزر رہی ہے اور اس کا اثر ہم سب پر پڑ رہا ہے۔ ایسے کشیدہ عالمی ماحول میں ہندستان اور آسٹریا اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی تنازعات سے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا۔ یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، ہم ایک مستقل اور پائیدار امن کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے حل کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ضروری ہیں اور ساتھ ہی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری مشترکہ عہد بستگی ہے۔



