جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،15؍اپریل: رانچی میں پیش آنے والاایک سنگین واقعہ ہے جہاں ایک میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اس کی سہیلی کے فلیٹ پر اجتماعی سازش کے تحت جنسی زیادتی کی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات:
متاثرہ طالبہ، جو رانچی میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، کو اس کی سہیلی نے 9 اپریل کو اپنی سالگرہ کی پارٹی میں مدعو کیا تھا۔ پارٹی کے دوران وہاں شاداب نامی نوجوان اپنے دو دوستوں، دانش اور فہد کے ساتھ موجود تھا۔ متاثرہ کے مطابق، کیک کاٹنے کے بعد اسے بھوک لگی تو دانش نے اسے پیزا کا ایک ٹکڑا دیا، جس میں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء ملی ہوئی تھیں۔ پیزا کھاتے ہی طالبہ کی طبیعت بگڑنے لگی اور وہ آرام کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ وہاں دانش نے اس کی نیم بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔
پولیس کی کارروائی:
سٹی ایس پی پارس رانا کے مطابق، سینئر ایس پی نے اس کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے زیرِ تربیت آئی پی ایس ساکشی جموار کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ پولیس نے تلاشی مہم کے دوران دانش اور فہد کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ مغربی بنگال فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے؛ انہیں کھڑگپور ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ، جرم کی سازش میں شامل متاثرہ کی سہیلی کو بھی جگن ناتھ پور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
موجودہ صورتحال:
پولیس نے اس معاملے میں BNS-2023 کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ چوتھا ملزم شاداب ابھی تک مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔



