اسلام آباد، 15 اپریل (یو این آئی) پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، امریکہ۔ایران مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا چار روزہ سفارتی دورہ کریں گے۔پاکستان وزارتِ خارجہ نے آج بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “وزیراعظم محمد شہباز شریف 15 سے 18 اپریل کی تاریخوں میں سعودی عرب، قطر اور جمہوریہ ترکیہ کے سرکاری دورے کریں گے”۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کے دورے “دو طرفہ تعلقات کے تناظر” میں ہوں گے جبکہ ترکیہ میں وزیراعظم شہباز شریف ‘انطالیہ ڈپلومیسی فورم، میں شرکت کریں گے اور صدر رجب طیب اردوعان سمیت دیگر رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ دوروں میں وزیراعظم شہباز شریف کے وفد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے۔واشنگٹن اور تہران نےکئی دہائیوں کے بعد گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں پہلے رُو بہ رُو مذاکرات کئے ہیں۔ یہ ملاقات امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہونے والی چھ ہفتوں سے زیادہ طویل جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصّہ ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے سعودی عرب اور قطر سمیت خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں خطے سے توانائی کی برآمدات میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ ‘اسلام آباد مذاکرات، کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے احکامات کے باوجود فریقین کے درمیان نازک جنگ بندی اگلے ہفتے تک برقرار رہے گی۔ پاکستان وزارتِ خزانہ نے بدھ کے روز جاری کردہ اعلان میں دورہ سعودی عرب کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔ ریاض، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے 3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ اس امداد کا اعلان پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر قرضہ واپس کرنے کے اعلان سے چند دن بعد کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے مزید کہا ہے کہ سعودی عرب میں موجود 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کی مدت میں بھی غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی جائے گی۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے پر
مقالات ذات صلة



