ہومNationalحق رائے دہی بنیادی حق نہیں ہے: سپریم کورٹ

حق رائے دہی بنیادی حق نہیں ہے: سپریم کورٹ

ووٹ دینا اور انتخاب لڑنا محض قانونی حقوق ہیں؛ راجستھان ہائی کورٹ کا حکم منسوخ

نئی دہلی، 11 اپریل:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نہ تو ووٹ دینے کا اور نہ ہی انتخاب لڑنے کا حق ’بنیادی حق‘ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ یہ دونوں حقوق الگ الگ ہیں اور مکمل طور سے قانون کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے طور پر۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس مہادیون کی بنچ نے راجستھان کی ضلعی دودھ یونینوں کے انتخاب سے متعلق ایک تنازعہ کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔ یہ فیصلہ جسٹس مہادیون نے لکھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی فرد کو انتخاب کے عمل میں حصہ لینا کا موقع دیتا ہے، جبکہ انتخاب لڑنے کا حق ایک الگ اور اضافی اور حق ہے، جس پر اہلیت، نااہلی اور دیگر ادارہ جاتی شرائط نافذ کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے جیوتی بسو بمقابلہ دیوی گھوشال (1982) اور جاوید بمقابلہ ہریانہ ریاست (2003) جیسے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حق صرف قانون کے ذریعہ دیے گئے ہیں اور انہیں اسی حد تک نافذ کیا جا سکتا ہے جس کی قانون اجازت دیتا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ راجستھان ہائی کورٹ نے ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کے حق کو یکساں مان کر غلطی کی۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ضمنی قوانین صرف انتخاب لڑنے کی اہلیت طے کرتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر نہیں کرتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان ضمنی قوانین کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون شخص انتخاب لڑ سکتا ہے یا عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ انہیں نااہلی سے جوڑنا غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے تمام متاثرہ فریق کو سنے بغیر ایک وسیع فیصلہ دے دیا، جو کہ فطری انصاف کے اصول ’تمام فریق کو سننے کے حق‘ کی خلاف ورزی ہے۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کوآپریٹو ادارے اپنے ضمنی قوانین کے ذریعہ انتخابی عمل اور نمائندگی کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ انتخابی حقوق کی قانونی نوعیت اور ان کے دائرے کو واضح کرنے والا اہم فیصلہ مانا جا رہا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات