ہومNationalاسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کا آغاز

اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کا آغاز

کانگریس کا مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال

نئی دہلی، 11 اپریل (یو این آئی) اسلام آباد میں ہفتہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی بات چیت کے موقع پر کانگریس پارٹی نے قیامِ امن کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پرسخت تنقید کرتے ہوئے تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ہندوستان کی اسٹریٹجک پوزیشننگ پر “سنجیدہ سوالات” اٹھائے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس بات چیت کے تعلق سے عالمی سطح پر، بشمول ہندوستان، یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ “پائیدار امن کے عمل کا آغاز” ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کوششوں کو “پڑوس میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت” کی وجہ سے پٹری سے نہیں اترنا چاہیے۔ رمیش نے اس موقع کا استعمال حکومت کے سفارتی نقطہ نظر میں تضادات اور ضائع شدہ مواقع پر سوال اٹھانے کے لیے کیا، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی رسائی کی حکمت عملیوں کو نشانہ بنایا۔وزیر اعظم کی ماضی کی ہائی پروفائل مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ریمارکس دیے کہ حالیہ پیش رفت کی روشنی میں “خود ساختہ وشو گرو کی ‘ہگلومیسی،(گلے ملنے کی سفارت کاری) کے جوہر اور انداز پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں”۔ کانگریس رہنما نے ان مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اپریل 2025 کے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مبینہ ملوث ہونے اور ہندوستان کی جانب سے اسے تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کے باوجود اسلام آباد اپنے لیے یہ “نیا کردار” حاصل کرنے میں کیسے کامیاب رہا؟انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد کے دور سے کرتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے “پاکستان کو انتہائی مؤثر طریقے سے تنہا کر دیا تھا”۔ جے رام رمیش نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر بھی سوال اٹھایا اور دلیل دی کہ عوامی سفارت کاری کی وسیع کوششوں—بشمول بڑے ایونٹس اور سیاسی پیغامات—کے باوجود حکومت اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان نے ایک “واضح طور پر یکطرفہ تجارتی معاہدے” پر اتفاق کیا جبکہ بدلے میں اسے بہت کم حاصل ہوا، یہاں تک کہ واشنگٹن نے پاکستان کو ایک بار پھر سفارتی اہمیت دے دی۔ مزید برآں، انہوں نے برکس میں ہندوستان کی موجودہ قیادت کی پوزیشن کو امن یا ثالثی کی کوششوں کے لیے استعمال نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے اہم علاقائی ممالک اس گروپ کے رکن ہیں۔”ہندوستان نے کوئی امن اقدام کیوں شروع نہیں کیا؟” انہوں نے سوال کیا کہ نئی دہلی نے سفارتی قیادت منوانے کا موقع گنوا دیا۔ رمیش نے چین کے حوالے سے ہندوستان کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران “منظم ہتھیار ڈالنے” سے تعبیر کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان کے لیے بیجنگ کی مسلسل حمایت سے جوڑا، خاص طور پر حالیہ علاقائی کشیدگی اور ‘آپریشن سندور، پر اسلام آباد کے ردعمل کے تناظر میں۔مغربی ایشیا کے وسیع تر مفادات پر زور دیتے ہوئے کانگریس رہنما نے وہاں استحکام کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “مغربی ایشیا میں امن جلد واپس آنا چاہیے،” اور مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو معمول پر آنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل کے وقت پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے اس کے فوراً بعد بڑھنے والی کشیدگی کے تناظر میں “غیر دانشمندانہ اور غلط وقت پر کیا گیا” قرار دیا۔ یہ بیان حکومت کے خارجہ پالیسی بیانیے کو چیلنج کرنے کی کانگریس کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا اسلام آباد مذاکرات دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطوں میں سے ایک میں تناؤ کو کم کر پاتے ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات