عازمین حج کے لیے منعقدہ خصوصی تربیتی کیمپ سے چیئر مین کا خطاب
جھارکھنڈ سے 1530 عازمین حج کی روانگی؛ کولکتہ، دہلی اور ممبئی سے مکہ و مدینہ کا سفر ہوگا شروع
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،29؍مارچ: آج رانچی کے کڈرو واقع حج ہاؤس میں عازمین حج کے لیے یک روزہ خصوصی تربیتی کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں حاجیوں نے شرکت کی۔حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک کی صورتحال کے حوالے سے عازمینِ حج کے درمیان پیدا ہونے والی تشویش کو دور کرتے ہوئے حج کمیٹی کے چیئرمین و وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے واضح کیا کہ حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل حکومتِ ہند اور متعلقہ ایجنسیوں کے رابطے میں ہیں اور اب تک ایسی کوئی سرکاری گائیڈ لائن جاری نہیں ہوئی ہے جس سے حج متاثر ہو۔مزید برآں، وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ حاجیوں کو کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی اور تمام انتظامات منظم طریقے سے چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو تمام حاجیوں کو بروقت مطلع کیا جائے گا اور فوری طور پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔اس سال تقریباً 1530 عازمین کو حج کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے 250 حاجی ممبئی، 246 حاجی دہلی اور 1036 حاجی کولکتہ سے روانہ ہوں گے، جہاں سے انہیں مکہ اور جدہ کے لیے کلیئرنس فراہم کی جائے گی۔عازمین حج کا پہلا قافلہ 18 اپریل کو کولکتہ سے روانہ ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ 18 سے 23 اپریل تک ڈاکٹر عرفان انصاری خود کولکتہ ایئرپورٹ پر موجود رہ کر حاجیوں کو رخصت کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ “حاجیوں کی خدمت کرنا اور ان کی دعائیں حاصل کرنا میرے لیے خوش قسمتی اور روحانی سکون کا باعث ہے۔”تربیتی کیمپ میں حج کے سفر سے متعلق تمام اہم معلومات تفصیل سے فراہم کی گئیں۔ اس میں سفر کا طریقہ کار، ضروری احتیاطی تدابیر، مکہ اور مدینہ میں عمل کیے جانے والے قوانین کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں طرزِ عمل سے متعلق ہدایات بھی شامل تھیں۔ ماہرین نے سادہ اور واضح انداز میں تمام حاجیوں کی رہنمائی کی۔آخر میں وزیر موصوف نے کہا کہ حج کے دوران چیلنجز آ سکتے ہیں، لیکن “اللہ تعالیٰ ہر مشکل کا راستہ نکال دیتے ہیں۔” انہوں نے تمام حاجیوں کے محفوظ، صحت مند اور کامیاب سفر کے لیے تہہِ دل سے دعا کی۔اس موقع پر آفتاب احمد، حاجی شمس تبریز، اکرام انصاری، مفتی انور قاسمی، خورشید انور، حاجی کیسر، اکرام الحسن، مفتی شعیب، محمد شاہد، ممتاز خان سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔



