کابل، 17 مارچ:۔ (ایجنسی) افغانستان نے پاکستانی فوج پر دارالحکومت کابل میں نشہ چھوڑانے مرکز پر فضائی حملہ کرنے کا الزام لگایا، جس میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہوئے۔ الجزیرہ نے منگل کے روز رپورٹ اس کی اطلاع دی ہے۔ تاہم، پاکستان نے اس دعوے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے پیر کے روز صرف کابل اور ننگرہار صوبے میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ افغان طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، کابل کے عمر ہسپتال پر حملہ سوموارکے روز مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے ہوا تھا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ہسپتال میں 2000 بستروں کی گنجائش ہے اور حملے میں عمارت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے مرنے والوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے، اور تقریباً 250 دیگر زخمی ہیں۔ ریسکیو ٹیم اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور آگ پر قابو پانے اور متاثرین کی لاشوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں‘‘۔ افغان حکومت کے سینئر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہسپتال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل میں نشہ چھوڑانے کے ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ افغان حکومت اس طرح کی کارروائی کو تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم سمجھتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل میں کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
افغانستان کی طرف سے پاکستان پر 400 افراد کے قتل کا الزام ، پاکستان کی تردید
مقالات ذات صلة



