نئی حکومت کو میرا تعاون حاصل رہے گا: نتیش کمار
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ،5 مارچ:بہار کی سیاست میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے جب طویل عرصے تک ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کی اپنی خواہش کا باضابطہ اظہار کر دیا ہے۔ جمعرات 5 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی اور جذباتی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا جو گزشتہ کئی دنوں سے گردش کر رہی تھیں۔ نتیش کمار نے اپنے پیغام میں بہار کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں عوام نے ان پر جس اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا، اسی کی بدولت وہ پوری ایمانداری کے ساتھ ریاست کی خدمت کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہار آج ترقی اور وقار کی جن نئی منزلوں پر پہنچا ہے، اس کے پیچھے عوام کا بھروسہ اور طاقت شامل ہے، جس کے لیے وہ پہلے بھی کئی بار اظہارِ تشکر کر چکے ہیں۔
نتیش کمار نے اپنی پوسٹ میں اپنے دل کی ایک پرانی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمانی زندگی کے آغاز سے ہی ان کی یہ تمنا تھی کہ وہ اپنی زندگی میں بہار قانون ساز مجلس کے دونوں ایوانوں (اسمبلی اور کونسل) کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے بھی دونوں ایوانوں (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) کی رکنیت حاصل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی مقصد کے تحت وہ اس بار ہونے والے انتخابات میں راجیہ سبھا کا رکن بننا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کا رشتہ مستقبل میں بھی اسی طرح برقرار رہے گا اور ایک ترقی یافتہ بہار بنانے کا عزم پہلے کی طرح قائم رہے گا، نیز ریاست میں بننے والی نئی حکومت کو ان کا مکمل تعاون اور رہنمائی حاصل رہے گی۔
دوسری جانب، نتیش کمار کے اس فیصلے نے ان کے حامیوں اور جے ڈی یو کارکنوں میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کے اس اعلان کے بعد وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے لیڈر سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک فیصلہ ہے کیونکہ نتیش کمار نے طلبہ تحریک سے لے کر آج تک بہار کے عوام کی بے مثال خدمت کی ہے اور عوام انہیں اپنا خاندان مانتے ہیں۔ کارکنوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ بہار میں نتیش کمار کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا اور وہ کسی دوسرے شخص کو وزیراعلیٰ کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نتیش کمار ہی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں تاکہ ریاست کی ترقی کا سفر بلا تعطل جاری رہ سکے۔ اس سیاسی تبدیلی نے ریاست میں مستقبل کی حکومت اور قیادت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



