Thursday, February 5, 2026
ہومJharkhandرانچی کے ڈیموں پر غیر قانونی قبضے: جھارکھنڈ ہائی کورٹ سخت، ڈپٹی...

رانچی کے ڈیموں پر غیر قانونی قبضے: جھارکھنڈ ہائی کورٹ سخت، ڈپٹی کمشنر سے حلف نامہ طلب

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،4؍فروری: دارالحکومت میں پینے کے پانی کی ضرورت پوری کرنے والے تین اہم ڈیموں -دھوروا ڈیم، کانکے ڈیم اور گیتلسود ڈیم— کے کیچمنٹ ایریا (بالائی نشیبی علاقہ) میں تجاوزات کے معاملے کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ عدالت نے اس پر ضلع انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جس پر اگلی سماعت 26 مارچ کو ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم
جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ دھیرج کمار نے بتایا کہ چیف جسٹس ایم ایس سوناک کی بنچ نے رانچی کے آبی ذخائر اور تینوں بڑے ڈیموں کے علاقوں میں غیر قانونی قبضوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے رانچی کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے استفسار کیا کہ ڈیموں کے لیے کل کتنی زمین حاصل (Acquire) کی گئی تھی اور اس میں سے کتنے حصے پر تجاوزات قائم ہیں۔ بنچ نے یہ بھی جاننا چاہا کہ ان تجاوزات کو ہٹانے کے لیے اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے یا کی جا رہی ہے۔ ان تمام سوالات کے جوابات حلف نامے کے ذریعے طلب کیے گئے ہیں۔
تجاوزات ہٹانے کی کارروائی جاری
سماعت کے دوران بنچ نے رانچی میونسپل کارپوریشن سے بھی گزشتہ احکامات کی تعمیل پر رپورٹ طلب کی۔ کارپوریشن کی جانب سے ایڈووکیٹ ایل سی این شاہدیو نے موقف پیش کیا۔ حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہرمو ندی، ہینو ندی اور دھوروا ڈیم کے علاقوں سے تجاوزات ہٹانے کی مہم مسلسل جاری ہے، تاہم بعض معاملات میں عدالت کے حکمِ امتناعی (Stay Order) کی وجہ سے کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔ اس دوران عدالتی معاون (ایمیکس کیوری) اندر جیت سنہا نے نشاندہی کی کہ تینوں ڈیموں کے کیچمنٹ ایریا میں بڑے پیمانے پر تجاوزات قائم ہو چکی ہیں۔ایڈووکیٹ دھیرج کمار نے مزید بتایا کہ دھوروا ڈیم کی حاصل کردہ اراضی پر غیر قانونی قبضے کے معاملے میں اے سی بی (Anti-Corruption Bureau) نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ان افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے جنہوں نے ڈیم کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات