ٹوکیو، 3 فروری (یو این آئی) جاپان میں غیر معمولی طور پر شدید برفباری کو گزشتہ دو ہفتوں میں 30 افراد کی اموات کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔مرکزی حکومت نے آوموری میں رہائشیوں کی مدد کے لیے فوج بھیج دی ہے جو سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے اور جہاں دور دراز علاقوں میں زمین پر 4.5 میٹر تک برف موجود ہے۔وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے منگل کی صبح ایک خصوصی کابینہ اجلاس بلایا اور وزرا کو ہدایات دیں کہ وہ اموات اور حادثات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ایک طاقتور سرد ہوا کی لہر حالیہ ہفتوں میں بحرِ جاپان کے ساحل پر شدید برفباری کا باعث بنی ہے جبکہ بعض علاقوں میں معمول سے دوگنا یا اس سے زیادہ برف پڑی ہے۔فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 20 جنوری سے منگل تک شدید برفباری کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔آوموری کے گورنر سوئچیرو میاشیتا نے پیر کو کہا کہ انہوں نے جاپان کی فوج سے ہنگامی امداد کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوج سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے میں ایسے بزرگوں کی مدد کریں جو اکیلے رہتے ہیں اور برف ہٹانے میں مدد کے محتاج ہیں۔ گورنر نے کہا کہ علاقائی دارالحکومت آوموری شہر کی سطحِ زمین پر 1.8 میٹر تک اونچی برف کی دیواریں موجود ہیں جبکہ سڑکوں اور گھروں سے برف صاف کرنے والے مقامی کارکنوں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے واقعات جیسے چھتوں سے گرنے والی برف کے باعث مہلک حادثات یا عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
جاپان میں شدید برف باری،اموات کی تعداد 30 تک پہنچ گئی
مقالات ذات صلة



