خواتین قیادت، شمولیاتی ترقی اور جھارکھنڈ کی معاشی طاقت کے ماڈل پر روشنی ڈالیں گی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 13 جنوری:۔ عالمی اقتصادی فورم 2026 میں پہلی مرتبہ جھارکھنڈ کی شرکت کئی حوالوں سے نہایت اہم مانی جا رہی ہے۔ ریاست نہ صرف اپنی صنعتی صلاحیتوں اور بے پناہ مواقع والی شناخت کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرے گی بلکہ یہ واضح پیغام بھی دے گی کہ جب معاشرے کی نصف آبادی قیادت کرتی ہے تو معیشت مضبوط، سماج لچکدار اور ترقی پائیدار بنتی ہے۔ اسی وژن کے ساتھ جھارکھنڈ کی بیٹی اور ریاستی اسمبلی کی رکن کلپنا سورین داووس میں منعقدہ عالمی اجلاس اور برطانیہ کے دورے کے دوران عالمی پلیٹ فارم سے ریاست کی نمائندگی کریں گی۔
معاشی و سماجی تبدیلی کی علامت بنتی خواتین
کلپنا سورین خواتین قیادت، صنفی مساوات اور شمولیاتی ترقی سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی فورمز پر جھارکھنڈ کی نمائندگی کریں گی۔ وہ عالمی برادری کے سامنے قبائلی، دیہی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جدوجہد اور امنگوں کو اجاگر کریں گی، جو آج جھارکھنڈ میں سماجی اور معاشی تبدیلی کی اصل محرک بن چکی ہیں۔
خواتین کو بااختیار بنانے پر پالیسی سطح پر گفتگو
وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی قیادت میں جھارکھنڈ حکومت خواتین کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ داووس میں کلپنا سورین خواتین کے سیاسی کردار، معاشی شمولیت اور مساوی مواقع پر مرکوز پالیسی مباحثوں سے خطاب کریں گی۔ ان میں برکس ویمن ایمپاورمنٹ پینل، ای ٹی ویمن ڈائیلاگ، ’وی لیڈ‘ فورم اور انڈیا پویلین کے سرکاری پروگرام شامل ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیں گی کہ خواتین کی ترقی محض علامتی نمائندگی نہیں بلکہ مضبوط معاشی بنیاد اور ادارہ جاتی طاقت سے جڑی ہے۔
دیہی معیشت کو نئی سمت دیتی جھارکھنڈ کی خواتین
داووس میں یہ بات بھی اجاگر کی جائے گی کہ جھارکھنڈ اسٹیٹ لائیولی ہُڈ پروموشن سوسائٹی کے تحت 35 لاکھ سے زائد خواتین، 2.8 لاکھ سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس سے منسلک ہیں۔ گزشتہ برسوں میں دیہی معیشت کو رفتار دینے کے لیے 5000 کروڑ روپے سے زائد کے قرض منظور کیے گئے۔ یہ خواتین آج کسان، صنعت کار، دستکار اور روزگار کی تخلیق کار بن کر باوقار زندگی گزار رہی ہیں۔
رانچی کی پہچان بنتے کامیاب پروگرام
لکھپتی دیدی، پلاش، جوہار، جھمڈی، اَدیوا اور آجیویکا کیفے جیسے منصوبوں نے ہزاروں خواتین کو سالانہ ایک لاکھ روپے سے زائد آمدنی کے قابل بنایا ہے۔ پلاش برانڈ کی مصنوعات اب عالمی منڈی تک پہنچ رہی ہیں اور 2026 تک 45 کروڑ روپے کے کاروبار کا ہدف ہے۔ اسی طرح ’مئیاں سمان یوجنا‘ کے تحت ہر سال 17 ہزار کروڑ روپے کی امداد خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے۔
برطانیہ میں تعلیم اور مہارت پر بات چیت
داووس کے بعد کلپنا سورین برطانیہ میں تعلیم، مہارت سازی، موسمیاتی تبدیلی اور ثقافتی وراثت پر مباحثوں میں حصہ لیں گی۔ وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے ساتھ وہ مرانگ گومکے اسکالرشپ کے تحت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے جھارکھنڈ کے نوجوانوں سے بھی ملاقات کریں گی۔ یہ دورہ رانچی اور جھارکھنڈ کو عالمی شراکت داری کے ایک نئے دور میں داخل کرنے کی سمت اہم قدم ثابت ہوگا۔



