ممتا بنرجی کاایس آئی آرمہم میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ، 12 جنوری :مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کے روز ریاست میں انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظر ثانی مہم (ایس آئی آر) میں سنگین طریقۂ کار کی خامیوں کا الزام لگایا اور اشارہ دیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے منطقی تضادات کے بہانے اصل ووٹروں کے نام حذف کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے اپنے پانچویں خط میں محترمہ بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے نتیجے میں ’’شہریوں کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے، اہل ووٹروں کے نام غلط طریقے سے خارج کیے جا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ایس آئی آر کی سماعتوں کے دوران ووٹروں کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات کی رسید یا اعتراف نامہ جاری نہ کرنے کو سب سے سنگین خامیوں میں سے ایک قرار دیا۔ محترمہ بنرجی نے لکھا، ’’یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس آئی آر کے حصے کے طور پر منعقد ہونے والی سماعتوں کے دوران ووٹرز اپنی اہلیت کے حق میں مطلوبہ دستاویزات جمع کرا رہے ہیں۔ تاہم، کئی معاملات میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے لیے کوئی مناسب رسید جاری نہیں کی جا رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ تصدیق کے مرحلے پر ان دستاویزات کو اکثر ’’نہیں ملے‘‘ یا ’’ریکارڈ پر دستیاب نہیں‘‘ کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام حذف ہو جاتے ہیں۔ محترمہ بنرجی نے اس عمل کو ’’میکانیکی اور عقل کے استعمال کے بجائے محض تکنیکی بنیادوں پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے دلیل دی کہ اس طرح کی خامیاں ایس آئی آر کے اصل مقصد کو ہی ختم کر دیتی ہیں، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مضبوط اور پاک بنانا ہے، نہ کہ حقیقی ووٹروں کو باہر نکالنا۔



