ممتا بنرجی کا استعفیٰ دینے سے صاف انکار
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے بعد ریاست کی سیاست ایک شدید بحران کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے کالی گھاٹ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح اور سخت موقف اختیار کیا ہے کہ وہ نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتی ہیں اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم نہیں ہارے، یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے، اس لیے استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نتائج سامنے آنے کے بعد جہاں یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ممتا بنرجی روایت کے مطابق گورنر ہاؤس جا کر اپنا استعفیٰ پیش کریں گی، وہیں انہوں نے سب کو حیران کرتے ہوئے اس روایت کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ وہ راج بھون نہیں جائیں گی اور اگر انہیں زبردستی استعفیٰ دینے کا کہا گیا تو بھی وہ اس پر عمل نہیں کریں گی۔ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں انتخابی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ گنتی کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر ان کے پارٹی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا، انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں تک کہ انتخابی دستاویزات جیسے فارم 17C بھی چھین لیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ خود ایک گنتی مرکز پر پہنچیں تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، انہیں دھکا دیا گیا اور زبردستی باہر نکال دیا گیا، جو نہ صرف ایک منتخب نمائندہ بلکہ ایک خاتون کی توہین ہے۔دوسری جانب، گورنر آر این روی کے کردار پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں، کیونکہ آئینی طور پر وہ ایسی صورتحال میں وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ طلب کر سکتے ہیں۔ تاہم ممتا نے واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔بی جے پی کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ جمہوری اصولوں اور آئین کے خلاف ہے، اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال محض ایک بیان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آنے والے دنوں میں بنگال میں ایک بڑا آئینی اور سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔یاد رہے کہ 2011 میں جب بائیں بازو کی 34 سالہ حکومت ختم ہوئی تھی تو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن 2026 کا منظرنامہ بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بنگال ایک نئے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اقتدار، آئین اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
