اہل ووٹروں کے لیے ووٹنگ کا راستہ صاف
ممتا بنرجی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ ؍ نئی دہلی :سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے ایس آئی آر سے متعلق ایک اہم معاملے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ان اہل ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے جن کی اپیلوں پر فیصلہ انتخابات سے عین قبل اپیلٹ ٹریبونل نے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ جن افراد کو ٹریبونل ووٹ دینے کے لیے اہل قرار دے گا، ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جائیں اور انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہ رکھا جائے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس حکم کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچلی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ ایسے تمام اہل ووٹروں کی ضمنی فہرست شائع کرے جن کی اپیلیں انتخابی مراحل سے عین پہلے نمٹائی جا رہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل 21 اپریل تک اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل 27 اپریل تک جن افراد کو اہل قرار دیا جائے گا، انہیں ووٹ ڈالنے کا پورا حق دیا جائے اور اس کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جن افراد کے نام مسترد کیے جا چکے ہیں یا جنہیں اہل قرار نہیں دیا گیا، انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کوچ بہار سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے جن کے ووٹنگ حقوق خطرے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہیلی کاپٹر میں سفر کے دوران اس فیصلے کی اطلاع ملی اور وہ اس خبر سے بے حد خوش ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی سب سے صبر کرنے کو کہا تھا اور اب سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ انصاف زندہ ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ ایسے تمام ووٹروں کے گھروں تک پہنچیں جن کے نام نئی فہرست میں شامل ہوں گے تاکہ انہیں ووٹ ڈالنے میں مدد دی جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے عدلیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر جمہوریت اور آئین کی حفاظت کی ہے اور اس فیصلے نے عدلیہ پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط کیا ہے۔یہ کیس 13 اپریل کو سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے آیا تھا، جس کے بعد عدالت نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابی عمل میں اہل شہریوں کو صرف تکنیکی وجوہات کی بنا پر ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مغربی بنگال کے انتخابی منظرنامے پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہزاروں ایسے ووٹروں کو فائدہ مل سکتا ہے جو اپنی شہریت یا ووٹر اہلیت کے فیصلے کے انتظار میں تھے۔ یہ فیصلہ انتخابی سیاست میں ایک اہم موڑ مانا جا رہا ہے۔
