پروفیسروں کی تقرری پر ہائی کورٹ کی الیکشن کمیشن کو سخت سرزنش
کولکاتہ :کولکاتہ ہائی کورٹ نے اسمبلی انتخابات کے دوران کالج اور یونیورسٹی کے پروفیسروں کو پولنگ افسر مقرر کرنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راؤ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کمیشن اس طرح اپنے ہی قواعد بدل سکتا ہے تو پھر ججوں کو بھی پولنگ افسر تعینات کر دیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے پر تفصیلی وضاحت طلب کر لی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مناسب جواب نہ ملا تو عدالت خود فیصلہ سنائے گی۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کئی پروفیسروں نے الیکشن کمیشن کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن نے اسمبلی انتخابات کے لیے انہیں پولنگ افسر مقرر کیا ہے، جبکہ خود الیکشن کمیشن کے سابقہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ و پروفیسروں کو پولنگ ڈیوٹی نہیں دی جائے گی۔ اس کے باوجود انہیں اچانک انتخابی ذمہ داری کیوں دی جا رہی ہے، یہی سوال عدالت کے سامنے اٹھایا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راؤ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس کے نوٹیفکیشن واضح اور منطقی ہونے چاہئیں۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن پہلے یہ نہیں کہہ سکتا کہ پروفیسروں کو پولنگ ڈیوٹی نہیں دی جائے گی، اور پھر آخری وقت میں اسی اصول کے خلاف جا کر انہیں تعینات کر دے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عملے کی کمی کے باعث پروفیسروں کو پولنگ ڈیوٹی پر لگانا پڑا۔ تاہم عدالت اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی۔ جسٹس کرشنا راؤ نے کہا کہ عملے کی کمی آخری لمحے کا مسئلہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ کمیشن کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کتنے ملازمین درکار ہوں گے۔جج نے مزید سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمیشن اس طرح غیر واضح اور متضاد نوٹیفکیشن جاری کرے گا تو پھر اسے ججوں کو بھی پولنگ افسر مقرر کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے نوٹیفکیشن کے مطابق تو ججوں کی تقرری کا بھی انتظام ہو سکتا ہے، پھر ہمیں بھی لگا دیجیے۔الیکشن کمیشن نے عدالت کو خبردار کیا کہ اگر اس مرحلے پر نوٹیفکیشن میں مداخلت ہوئی تو 23 اضلاع میں پوری انتخابی تیاری متاثر ہو سکتی ہے اور ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ اب نئی بھرتی اور تربیت ممکن نہیں۔لیکن عدالت نے اس مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کی آڑ میں غیر منطقی فیصلوں کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس کرشنا راؤ نے کہا کہ اگر عدالت ہر بار خاموش رہے گی تو بے ضابطگیاں بڑھتی رہیں گی۔اب ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جمعہ تک آخری موقع دیا ہے کہ وہ عدالت میں آ کر واضح کرے کہ اپنے ہی سرکلر کے خلاف جا کر پروفیسروں کو پولنگ ڈیوٹی کیوں دی گئی۔ اگر کمیشن مناسب وضاحت نہ دے سکا تو عدالت اس معاملے میں فیصلہ سنا سکتی ہے۔
