نرملا سیتا رمن کے شوہر نے بھی بنگال کے انتخابی عمل پر اٹھائے سوال
کولکاتہ :مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کے معاملے نے اب سنگین سیاسی شکل اختیار کر لی ہے۔ خصوصی معلوماتی رپورٹ (SIR) کے تحت تقریباً 91 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کے دعووں پر نہ صرف ریاستی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے بلکہ اب مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے شوہر اور معروف ماہرِ اقتصادیات پارکالا پربھاکر نے بھی اس عمل پر کھل کر تشویش ظاہر کی ہے۔کولکاتہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارکالا پربھاکر نے کہا کہ بنگال میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب حکومت خود یہ طے کر رہی ہے کہ کون ووٹ دے گا اور کون نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ووٹر تصدیقی عمل میں چند سو یا زیادہ سے زیادہ دو ہزار نام خارج ہو سکتے ہیں، لیکن لاکھوں افراد کے نام نکال دینا معمول کی کارروائی نہیں بلکہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے آندھرا پردیش کے گزشتہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹنگ کے عمل پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آندھرا میں محض سوا گھنٹے کے اندر 52 لاکھ ووٹ ڈالے جانے کا ریکارڈ سامنے آیا، جو حساب کے مطابق کئی مقامات پر ہر 6 سے 20 سیکنڈ میں ایک ووٹ ڈالے جانے کے برابر ہے، اور یہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ترنمول کانگریس پہلے ہی الزام لگا چکی ہے کہ الیکشن کمیشن مرکزی بی جے پی حکومت کے اشارے پر کام کر رہا ہے اورلاجیکل ڈسکریپنسی کے نام پر مخصوص طبقوں کے ووٹ حذف کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی اس معاملے پر شدید اعتراض جتا چکی ہیں۔پارکالا پربھاکر کے بیان کے بعد اب یہ سوال مزید شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا 2026 کے بنگال انتخابات میں بھی انتخابی عمل پر شفافیت کے حوالے سے بڑے تنازعات جنم لیں گے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر فوری وضاحت دے اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے پورے عمل کو عوام کے سامنے شفاف بنایا جائے۔



