ابھیشیک بنرجی کا مرشد آباد میں بڑا دعویٰ
جدید بھارت نیوز سروس
مرشد آباد، 18 اپریل :ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے ہفتہ کے روز مرشد آباد میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ انڈیا اتحاد کی یکجہتی نے بی جے پی کی آئینی ترمیم کی کوششوں کو کامیابی سے روک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن نے خواتین کے ریزرویشن بل کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کی آڑ میں لائے جانے والے حد بندی بل کو روکا ہے جو کہ ریاستوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف تھا۔ ابھیشیک بنرجی نے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لے، وہ ملک کے آئین کو تبدیل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گی کیونکہ اب عوام کی طاقت اور اپوزیشن کا اتحاد ایک مضبوط دیوار بن کر سامنے آ چکا ہے۔عوامی جلسے سے قبل ابھیشیک بنرجی نے فرخہ اور شمشیر گنج اسمبلی حلقوں میں طوفانی روڈ شو کیے جہاں حامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد سڑکوں پر امڈ آئی۔ اس موقع پر جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ لوگ نہ صرف سڑکوں کے کناروں پر کھڑے تھے بلکہ گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں سے بھی ترنمول لیڈر کا استقبال کر رہے تھے۔ روڈ شو کے بعد منعقدہ میٹنگ میں انہوں نے مقامی سیاسی حریفوں بشمول کانگریس کے سینئر رہنما ادھیر رنجن چودھری اور ہمایوں کبیر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر علاقے کے مسائل سے چشم پوشی کرنے کا الزام عائد کیا۔ لال باغ سنگھی ہائی اسکول گراؤنڈ میں ٹی ایم سی امیدوار کی حمایت میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو نشانے پر رکھا اور کہا کہ مرکزی حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہی تھی جسے ترنمول اور دیگر اتحادیوں نے مل کر ناکام بنایا ہے۔ابھیشیک بنرجی نے مقامی مسائل پر بات کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر عوام کو یقین دلایا کہ جن لوگوں کے ناموں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے انہیں بہت جلد نئے شناختی کارڈ فراہم کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔ گنگا کے کٹاؤ کے سنگین مسئلے پر انہوں نے مرکزی حکومت کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے متعدد بار مرکز کو خط لکھ کر اسے قومی آفت قرار دینے کی درخواست کی ہے تاکہ متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے فنڈز حاصل کیے جا سکیں، لیکن مودی حکومت نے اس پر اب تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کانگریس پر بھی طنز کیا کہ وہ اس خطے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر غیر فعال رہی ہے۔ ابھیشیک نے اپنے خطاب کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ بنگال کی عوام بی جے پی کے آمرانہ رویے کا جواب اپنے ووٹوں کے ذریعے دیں گے اور ملک کے جمہوری ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
