ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھا سخت احتجاجی خط
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ:وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سخت اعتراض کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو چار صفحات پر مشتمل تفصیلی خط لکھا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب وزیر اعلیٰ نے ووٹر لسٹ پر نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو لے کر براہِ راست سی ای او سے شکایت درج کرائی ہے۔اپنے خط میں ممتا بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے موجودہ عمل کی وجہ سے ریاست بھر میں عام لوگوں کو غیر ضروری مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے نام پر بزرگ شہریوں، بیمار افراد اور کمزور طبقات کو دور دراز مقامات پر سماعت کے لیے بلایا جا رہا ہے، جو سراسر غیر انسانی اور غیر حساس رویہ ہے۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب بی ایل اے (بوتھ لیول ایجنٹس) نے ابتدا سے ہی ووٹر لسٹ کی جانچ اور نظرثانی میں سرگرم اور محنتی کردار ادا کیا ہے تو اب انہیں اچانک سماعت کے عمل سے کیوں باہر رکھا جا رہا ہے؟ ان کے مطابق بی ایل اے کو نظرانداز کرنا شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے پورا عمل مشکوک بن جاتا ہے۔ممتا بنرجی نے اپنے خط میں واضح کیا کہ جمہوریت کی بنیاد ووٹر کے حقِ رائے دہی پر ہے اور اگر اسی حق کے تحفظ کے نام پر عوام کو ہراساں کیا جائے تو یہ ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرے، بی ایل اے کو سماعت کے عمل میں شامل کرے اور بزرگوں و بیمار افراد کو غیر ضروری سفر اور پریشانی سے نجات دلائے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق اگر ایس آئی آر کے طریقۂ کار میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو اس کے سماجی اور سیاسی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن ریاستی حکومت کی تشویش کو سنجیدگی سے لے گا اور عوام دوست، شفاف اور انسانی بنیادوں پر مبنی اقدامات کرے گا۔یہ خبر موصول ہوتے ہی ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور الیکشن کمیشن کے آئندہ ردِعمل پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ مزید تفصیلات سامنے آتے ہی اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔



