پولیس کی سخت نگرانی، ہر ریلی اور مہم رجسٹر کرنا ضروری
کولکاتہ کے تھانے ایک ماہ پہلے ہی سیکٹروں میں تقسیم، گھر گھر پولیس کی دستک شروع
کولکاتہ :مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیکیورٹی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے بڑے پیمانے پر سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ لالبازار ذرائع کے مطابق اب ہر سیاسی سرگرمی—چاہے وہ بڑی ریلی ہو، جلوس، اسٹریٹ کارنر میٹنگ، گھر گھر مہم یا پمفلٹ کی تقسیم کو الیکشن کمیشن کی سوویدھا (Suvidha) ایپ یا پورٹل پر رجسٹر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سیاسی پروگرام کی پیشگی اطلاع کے بغیر سرگرمی انجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس اس ایپ پر درج معلومات کی بنیاد پر نہ صرف اپنی حکمت عملی طے کرے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر مرکزی فورسز کو بھی الرٹ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، مختلف محلوں اور دیہی علاقوں میں چھوٹے بڑے سیاسی اجتماعات اور جلوسوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اب چھوٹے پروگراموں، جیسے گلی محلوں کی میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور مہم، کو بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اکثر معمولی نوعیت کے یہی اجتماعات بعد میں کشیدگی یا تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔لالبازار کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ سوویدھا ایپ کے ذریعے پولیس کو یہ واضح اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت کب، کہاں اور کس پیمانے پر پروگرام منعقد کرنے جا رہی ہے۔ اس معلومات کی بنیاد پر یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ مخالف جماعتوں کے پروگرام ایک ہی وقت یا قریبی مقامات پر نہ ہوں، تاکہ کسی بھی ممکنہ ٹکراؤ کو روکا جا سکے۔خاص طور پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دو مخالف جماعتوں کے جلسے یا جلوس ایک دوسرے کے قریب نہ ہوں اور نہ ہی ان کے مائیکروفون کی آواز ایک دوسرے تک پہنچے، کیونکہ اس سے بھی تنازع پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ پولیس اس سلسلے میں اسٹریٹ کارنر میٹنگز پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔لالبازار ذرائع نے مزید بتایا کہ سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ڈور ٹو ڈور مہم، جلسوں اور یہاں تک کہ کتابچے بانٹنے جیسے معمولی پروگراموں کی تفصیلات بھی سوویدھا ایپ پر فراہم کریں۔ اس کا مقصد ہر سطح پر نگرانی کو مضبوط بنانا ہے تاکہ کوئی بھی سرگرمی پولیس کی نظر سے اوجھل نہ رہے۔ ٹریفک سارجنٹس اور دیگر افسران کو خصوصی طور پر سڑکوں پر تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد صرف ایک ہے—انتخابات کے دوران مکمل امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی طرح کی سیاسی جھڑپ یا بدنظمی کو روکنا۔ حکام کے مطابق، اگر تمام سیاسی جماعتیں ضوابط پر عمل کریں تو ایک پرامن اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
پرامن ووٹنگ کی تیاری عروج پر!
کولکاتہ کے تھانے ایک ماہ پہلے ہی سیکٹروں میں تقسیم، گھر گھر پولیس کی دستک شروع
کولکاتہ :کولکاتہ میں انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے پولیس نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ووٹنگ سے تقریباً ایک ماہ قبل ہی تھانوں کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کر دیا ہے۔ لالبازار ذرائع کے مطابق، عام طور پر یہ عمل ووٹنگ سے چند دن پہلے کیا جاتا تھا، لیکن اس بار پیشگی حکمت عملی کے تحت سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ہر تھانے کو اس کے رقبے کے لحاظ سے چار سے پانچ سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر سیکٹر کے لیے ایک مکمل ٹیم تعینات کی جا رہی ہے۔ اس ٹیم میں پولیس افسر، مرکزی فورسز کے اہلکار اور سول افسران شامل ہوں گے، تاکہ ہر علاقے پر گہری نظر رکھی جا سکے۔سیکٹر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کا مکمل دورہ کریں، چاہے اس کے لیے گاڑی استعمال کرنی پڑے یا پیدل چلنا پڑے۔ ان کے پاس علاقے کا نقشہ ہوگا اور انہیں نہ صرف راستوں بلکہ وہاں رہنے والے لوگوں سے بھی واقفیت حاصل کرنی ہوگی۔ عوام سے براہ راست بات چیت کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کہیں ووٹ دینے میں کوئی رکاوٹ یا دباؤ تو نہیں ہے۔پولیس خاص طور پر بزرگ افراد اور معذور شہریوں پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ انہیں ووٹنگ میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے جو انتخابات کے دوران گڑبڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، سیکٹر افسران کو ووٹنگ کے دن مسلسل اپنے علاقوں میں موجود رہنے اور کسی بھی مشتبہ صورتحال کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ پولیس اور مرکزی فورسز فوری کارروائی کر سکیں۔پولیس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ انتخابات کے دوران کسی بھی طرح کی بدامنی نہ ہو اور ہر شہری آزادانہ اور بلا خوف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکے۔



