Tuesday, January 13, 2026
ہومWest Bengalشعبہ اردو،ہگلی محسن کالج میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اشتراک سے...

شعبہ اردو،ہگلی محسن کالج میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اشتراک سے دو روزہ قومی سمینار کا کامیاب انعقاد

(خصوصی رپورٹ درخشاں شمیم:ریسرچ اسکالر)
شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے اشتراک سے ’’اردو تنقید: نظریے،مباحث اور امکانات‘‘ کے موضوع پر دوروزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔یہ سمینار گذشتہ8 اور9جنوری 2026 کو منعقد ہوا۔جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ممتاز ناقدین، اساتذہ اردو، محققین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ اس سیمینار کا مقصد اردو تنقید کی نظریاتی بنیادوں، معاصر مباحث اور مستقبل کے امکانات پر سنجیدہ اور علمی گفتگو کو فروغ دینا تھا۔سمینارکا افتتاح کالج کے پرنسپل پروشوتم پرامانک نے کیا۔ سمینا ر میں آئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم ڈاکٹر محمد ہمایوں جمیل خان نے کیا۔افتتاحی اجلاس میں مہمانان خصوصی محترمہ نزہت زینب، سکریٹری مغربی بنگال اردو کاڈمی نے کہا کہ اردو اکیڈمی کی خدمات اردو زبان و ادب کے فروغ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف اردو کی تدریس و ترویج میں سرگرم عمل ہے بلکہ مغربی بنگال کی گنگا جمنی تہذیب میں اردو کے کردار کو مستحکم کرنے میں بھی اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔اکیڈمی نے ریاست کے مختلف اضلاع میں اردو زبان کی تعلیم کے لیے کورسز، ورکشاپس اور اساتذہ کی تربیت کے پروگرام منعقد کیے ہیں، جس سے نئی نسل میں اردو سیکھنے اور سمجھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ اردو داں طبقے کے علاوہ غیر اردو داں افراد کو بھی اردو سے جوڑنے کی منظم کوششیں اکیڈمی کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ مغربی بنگال اردو اکاڈمی یہ تیسری دفعہ سمینار کے لئے اپنا تعاون پیش کر رہی ہے اور ہگلی محسن کالج کو یہ پہلی دفعہ ملا ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں بھی ملتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنقید کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ وہ ادب اور سماج کے رشتے کو واضح کرتی ہے۔ ایک اچھا نقاد ادب کے اندر چھپے ہوئے سماجی رویوں، طبقاتی کشمکش، صنفی شعور اور تہذیبی قدروں کو سامنے لاتا ہے۔ اس طرح تنقید ادب کو زندگی سے جوڑتی ہیَ ۔
ڈاکٹر دبیراحمد،صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج نے کہا کہ یہ سیمینار صرف ایک علمی اجتماع نہیں بلکہ اردو تنقید کے فکری مکالمے کو آگے بڑھانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جس کے اثرات دیرپا ثابت ہوں گے اردو تنقید کی اہمیت اردو ادب کی روحانی اور فکری بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ تنقید ہی وہ آئینہ ہے جس میں ادب اپنی خوبیاں، خامیاں اور امکانات دیکھتا ہے۔ اگر تخلیق ادب کا جسم ہے تو تنقید اس کی عقل اور شعور ہے، جو اسے سمت اور معنویت عطا کرتی ہے۔اردو تنقید نے ادب کو محض جذباتی اظہار کے بجائے فکری، سماجی اور تہذیبی سطح پر سمجھنے کا شعور دیا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر غزالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو تنقید کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بین الاقوامی نظریات سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جدید تنقیدی رویّوں کو اردو ادب کے لیے نئے فکری در وا کرنے والا قراردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو تنقید محض ادب کی تشریح نہیں بلکہ عہد کے فکری اور سماجی شعور کی ترجمانی ہے۔‘‘اردو تنقید کو اگر عالمی فکری دھاروں سے جوڑا جائے تو یہ ادب کی نئی تعبیرات پیش کر سکتی ہیں۔ اس سیمینار نے اسی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔‘‘ان کے علاوہ اس افتتاحی اجلاس میں شوکت علی (مغربی بنگال اردو اکاڈمی)،ڈاکٹر بکاش دے (کوآڑدینیٹر IQACہگلی محسن کالج) وغیرہ شامل تھے جبکہ اس اجلاس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد احمد اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج انجام دے رہے تھے اور اظہار تشکر محترمہ شمع عظیم شعبہ ٔاردو، ہگلی محسن کالج نے کیا۔ یہ سمینار 6سیشن پر محیط تھا پہلے سیشن میں مختلف علمی، کلاسیکی،ساختیاتی تنقید، جدید نظریات، ساختیات، مابعد جدید تنقید، مابعد نوآبادیاتی فکر اور ثقافتی تنقید جیسے موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔ مقررین نے اردو تنقید کے نظریاتی ڈھانچے کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کی قوت اور کمزوریوں کو مدلل انداز میں پیش کیا۔پہلے سیشن کی صدارت جناب صفدر امام قادری نے کی اور مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر دبیر احمد (صدر شعبۂ اردو، مولانا آزاد کالج)،ڈاکٹرمحمد ہمایوں جمیل خان (ایسوسی ایٹ پروفیسر ہگلی محسن کالج)، ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی( ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ اردوخضر پور کالج)،محترمہ نیک پروین(صدر شعبۂ اردو کوی سوکانتا مہا ودیالیہ کالج) نے اپنا مقالہ بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا۔نظامت سید آصف عبا س مرزا ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو ہگلی محسن کالج نے اور اظہار تشکر محترمہ نیہا پروین، بردوان یو نیورسٹی نے کی۔ابوذر ہاشمی نے کہا کہ‘چھ سیشنوں میں جس سنجیدگی اور فکری گہرائی کے ساتھ مقالات پیش کیے گئے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اردو تنقید کا مستقبل نہایت روشن ہے۔،ڈاکٹر سنجر ہلال بھارتی، ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم،صدر شعبہ اردو رانی گنج گرلس کالج، ڈاکٹرجمشید احمد،صدر شعبہ اردو بدھان چندرا کالج، ڈاکٹر محمد مشکورعالم، صدر شعبہ اردو، بنواری لال بھالوٹیا کالج،ڈاکٹر سعید احمد،اسسٹنٹ پروفیسر، عالیہ یونیورسٹی نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے تاثرات پیش کئے،نظامت کے فرائض محمد طیب علی، شعبۂ اردوہگلی محسن کالج نے ادا کی اور اظہار تشکر آفاق حیدر ریسرچ سکالر،ہگلی محسن کالج نے کیا۔اس طرح دو روزہ قومی سیمینار اردو تنقید کے روشن مستقبل کا اشاریہ ثابت ہوا جو سیمینار کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات