نوبل انعام یافتہ کو ہراساں کرنا افسوسناک اور ناقابلِ قبول: ابھیشیک بنرجی
کولکاتہ :بنگال میں اس وقت ایس آئی آر (SIR) کے تحت شہریوں کی شہریت تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس میں اگر کسی شہری کے گنتی فارم میں کوئی معمولی غلطی یا نام میں تضاد پایا جائے تو انہیں نوٹس بھیجا جاتا ہے اور مناسب دستاویزات کے ذریعے اپنی شہریت ثابت کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اس فہرست میں کچھ مشہور شخصیات بھی شامل ہیں، جس نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔پیر کو اطلاع ملی کہ ترنمول اسٹار ایم پی دیو اور کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے کرکٹر محمد شامی کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ اس کے بعد منگل کو رام پورہاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کمیشن پر شدید تنقید کی اور کہااب امرتیا سین کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے! سوچئے، وہ نوبل انعام یافتہ شخصیت جو عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر چکی ہیں، اداکار ایم پی دیو اور کرکٹر محمد شامی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ بدقسمتی اور افسوسناک ہے۔ انتخابات میں عوام کو ووٹ کے ذریعے اس کا جواب دینا ہوگا۔امرتیا سین عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات ہیں، جنہوں نے معاشیات میں اپنی تحقیق اور عوام پر مبنی کاموں کے لیے نوبل انعام حاصل کیا۔ وہ شانتی نکیتن کے رہائشی ہیں اور زیادہ تر وقت بیرون ملک گزارتے ہیں، مگر ہندوستان کے شہری اور ووٹر ہیں۔ امرتیا سین نے کئی مواقع پر حکومت کے اقتصادی فیصلوں پر کھل کر تنقید کی ہے اور عوامی مفاد کے لیے اپنی رائے پیش کی ہے۔ذرائع کے مطابق، کمیشن نے امرتیا سین کو ان کے ووٹر فارم میں نام کی معمولی تضاد کی بنیاد پر نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس کے تحت انہیں سماعت کے مرکز میں ذاتی طور پر آنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بی ایل او نوٹس ان کے گھر پہنچائے گا۔ اس وقت امرتیا سین بوسٹن، امریکہ میں موجود ہیں اور اپنے تمام دستاویزات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ابھیشیک بنرجی نے کہا یہ افسوسناک ہے کہ کمیشن نے عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ کو بھی نوٹس بھیجا۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں، بلکہ یہ سیاسی اور انسانی نقطہ نظر سے بھی تشویش ناک ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اس کا جواب دیں اور ایسے اقدامات کی مزاحمت کریں۔اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایس آئی آر کے تحت کس طرح شہریوں اور حتیٰ کہ مشہور شخصیات کو بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس نوٹس کو سیاسی سازش قرار دے رہی ہیں اور عوامی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔



