ادھیکاری نے اپنی پہلی کابینہ میں علاقوں،
برادریوں اور پارٹی دھڑوں کو متوازن بنایا
وزیراعظم مودی نے بی جے پی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں مغربی بنگال کے عوام کو ’’سشٹانگ پرنام‘‘ پیش کیا
کولکتہ، 9 مئی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈرسویندو ادھیکاری نے ہفتہ کو مغربی بنگال کے وزیر اعلی کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ ان کے ساتھ پانچ دیگر وزراء نے بھی حلف لیا۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے پہلی بار ریاست میں حکومت بنائی ہے۔ پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں 207 سیٹوں کے ساتھ دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی ہے۔مسٹر ادھیکاری کو یہاں بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں گورنر آر این روی نے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ان کے علاوہ مسٹر دلیپ گھوش، محترمہ اگنی مترا پال، مسٹر اشوک کیرتنیا، مسٹر خودی رام ٹوڈو اور مسٹر نسیتھ پرمانک نے بھی وزیروں کے طور پر حلف لیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور کئی دیگر مرکزی وزراء، بی جے پی صدر نتن نبین، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد کی حکومت والی مختلف دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور بڑی تعداد میں بی جے پی لیڈران اس موقع پر موجود تھے۔
بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں حلف برداری کی تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی پہلی کابینہ میں شامل کیے گئے وزراء نے علاقائی توازن، برادریوں کی نمائندگی اور پارٹی کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کی ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام دیا ہے۔کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں منعقدہ تقریب میں، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے کئی وزرائے اعلیٰ موجود تھے، ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی ریاست میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کے بعد قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ادھیکاری کے ساتھ پانچ سینئر بی جے پی رہنماؤں نے کابینہ وزراء کے طور پر حلف لیا، جن میں دلیپ گھوش، اگنی مترا پال، اشوک کرتیانیا، خدیرام ٹوڈو اور نِشیت پرمانک شامل ہیں۔ان تقرریوں کو ایک متوازن حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد پارٹی کے مختلف دھڑوں، خطوں اور سماجی گروہوں کو نمائندگی دینا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کولکاتا کے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک تاریخی لمحے کو رقم کرتے ہوئے مغربی بنگال کے عوام کے سامنے ’’سشٹانگ پرنام‘‘ کیا۔ یہ موقع ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پہلی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کا تھا۔اسٹیج پر آتے ہی وزیر اعظم نے رابندر ناتھ ٹیگور کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی تصویر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر تقریب کا آغاز کیا، جس سے اس اہم سیاسی تقریب کو ایک باوقار رنگ ملا۔ یہ تقریب ’’ربندر جینتی‘‘ کے موقع پر منعقد ہوئی، اور مبصرین کے مطابق حلف برداری کی تاریخ اسی مناسبت سے طے کی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد وزیر اعظم اسٹیج کے وسط میں آئے، عوام کی جانب رخ کیا، گھٹنوں کے بل جھکے اور مکمل سشٹانگ پرنام ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’میں مغربی بنگال کے عوام کی طاقت کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 207 نشستیں جیتیں، اور یہ پہلا موقع ہے کہ پارٹی نے ریاست میں حکومت قائم کی ہے۔یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ مغربی بنگال شیاما پرساد مکھرجی کا آبائی صوبہ ہے، جو بھارتیہ جن سنگھ کے بانی تھے۔
اس سے قبل نتائج کے اعلان کے بعد وزیر اعظم نے دہلی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بنگالی لباس ہعنی دھوتی اور کرتا پہن کر فتح کا جشن منایا تھا۔ ہفتے کے روز عوام کے سامنے جھک کر انہوں نے اس کامیابی کی جذباتی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔ وزیر اعظم صبح تقریباً 10 بجے کولکاتا پہنچے، جہاں سے وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریس کورس گئے اور پھر گاڑی کے ذریعے بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ پہنچے۔ وہ مغربی بنگال بی جے پی کے صدر شامک بھٹاچاریہ اور وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کے ساتھ ایک کھلی گاڑی میں جلسہ گاہ میں داخل ہوئے۔تقریب میں عوام کی بڑی تعداد موجود تھی، اور وزیر اعظم نے اسٹیج تک پہنچتے ہوئے حامیوں کا ہاتھ ہلا کر استقبال کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔تقریب میں بی جے پی کے کئی سینئر رہنما اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہوئے، جن میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، بی جے پی صدر نتن نابن، اور مرکزی وزراء جے پی نڈا، سمریتی ایرانی اور شیوراج سنگھ چوہان شامل تھے۔ علاوہ ازیں اداکار سے سیاست داں بننے والے مِتھن چکرورتی اور بی جے پی لیڈر اگنی مترا پال بھی تقریب میں موجود تھے۔
